المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الإسلام شرط فِي قَبُولِ العمل باب: اعمال کی قبولیت کے لیے اسلام کے شرط ہونے کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ السَّكْسَكِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّهُ مَرَّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ : يَا حَارِثُ كَيْفَ أَصْبَحْتَ ؟ قَالَ : أَصْبَحْتُ مُؤْمِنًا حَقًّا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : انْظُرْ مَا تَقُولُ ، إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ حَقِيقَةً ، فَمَا حَقِيقَتُكَ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَلَسْتُ قَدْ عَزَفَتِ الدُّنْيَا عَنْ نَفْسِي ، وَأَظْمَأْتُ نَهَارِي ، وَأَسْهَرْتُ لَيْلِي ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عَرْشِ رَبِّي بَارِزًا ، وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ يَتَزَاوَرُونَ فِيهَا ، وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَهْلِ النَّارِ يَتَضَاغَوْنَ فِيهَا ، يَعْنِي : يَصِيحُونَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا حَارِثُ ، عَرَفْتَ فَالْزَمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .سیدنا حارث بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: ”اے حارث! تم نے صبح کس حال میں کی؟“ انہوں نے عرض کیا: ”میں نے اس حال میں صبح کی کہ میں سچا مومن بن چکا ہوں۔“ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ذرا دیکھو کہ تم کیا کہہ رہے ہو، کیونکہ ہر شے کی ایک حقیقت ہوتی ہے، پس تمہارے اس ایمان کی کیا حقیقت ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”میں نے اپنے نفس کو دنیا سے بیزار کر لیا ہے، میں اپنے دن کو (روزے کی وجہ سے) پیاسا رکھتا ہوں اور اپنی رات کو (عبادت الٰہی میں) بیدار رکھتا ہوں، گویا میں اپنے رب کے عرش کو اپنے سامنے بالکل عیاں دیکھ رہا ہوں، اور گویا میں اہل جنت کو ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، اور گویا میں اہل جہنم کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ وہاں (تکلیف کی شدت سے) چیخ و پکار کر رہے ہیں۔“ آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: ”اے حارث! تم نے (حقیقت کو) پہچان لیا ہے، پس اب اسی پر ثابت قدم رہنا۔“
یہ روایت مسند مسدد کی ہے جس کی تخریج امام ابن حجر نے المطالب العالیہ (2873) میں کی ہے، اس کی سند میں ابن لہیعہ کی موجودگی کی وجہ سے کلام ہے، تاہم دیگر طرق اور شواہد سے اس کے معنی و مفہوم کو تقویت حاصل ہے۔