❮
❯
حدیث نمبر: 2628
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَامِعٍ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنِ الزِّبْرِقَانِ ، عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَصْلُحُ الْكَذِبُ إِلَّا فِي ثَلَاثَةٍ : يَكْذِبُ فِي الْحَرْبِ ، وَالْحَرْبُ خَدْعَةٌ ، وَالرَّجُلُ يَكْذِبُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمَا ، وَالرَّجُلُ يَكْذِبُ عَلَى امْرَأَتِهِ لِيُرْضِيَهَا " .
خَالَفَهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، رَوَاهُ عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ شَهْرٍ مُرْسَلًا .
وَخَالَفَ دَاوُدُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، رَوَاهُ عَنْ شَهْرٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ مُطَوَّلًا .
2628 \ 2 - قَالَ إِسْحَاقُ : أَنْبَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى أَبُو هَمَّامٍ ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ : بُعِثَ ( ح ) .
2628 \ 3 - قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَيُّوبَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ بِهَذَا السَّنَدِ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً ، فَمَرُّوا بِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، فَقَالُوا : يَا أَعْرَابِيُّ ، اجْزُرْ لَنَا شَاةً ، قَالَ : فَأَتَاهُمْ بِعَتُودٍ مِنْ غَنَمِهِ ، فَذَبَحُوهَا ، قَالَ : فَظَلُّوا يَطْبُخُونَ وَيَشْوُونَ ، حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ ، وَأَظَلَّ بِظِلِّهِ عَلَى غَنَمِهِ ، فَقَالُوا : يَا أَعْرَابِيُّ ، أَخْرِجْ لَنَا غَنَمَكَ ، حَتَّى نَقِيلَ فِي الْمِظَلَّةِ ، قَالَ : أَنْشُدُكُمُ اللهَ ، فَإِنَّهَا وُلَّدٌ ، فَإِنْ أَنَا أَخْرَجْتُهَا فَضَرَبَتْهَا السَّمُومُ طَرَحَتْ ، فَقَالُوا : أَنْفُسُنَا أَعَزُّ عَلَيْنَا مِنْ غَنَمِكَ ، قَالَ : فَأَخْرَجُوهَا فَضَرَبَتْهَا السَّمُومُ ، فَطَرَحَتْ ، قَالَ : ثُمَّ رَاحُوا مِنْ عِنْدِهِ ، وَتَرَكُوهُ ، حَتَّى أَتَوُا الْمَدِينَةَ ، فَإِذَا بِهِ قَدْ سَبَقَهُمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ ، فَلَمَّا جَاؤُوا سَأَلَهُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا ذَكَرَ ، فَأَنْكَرُوا ، فَاعْتَمَدَ رَجُلًا مِنْهُمْ ، فَقَالَ : " يَا فُلَانُ ، إِنْ كَانَ مَا فِي أَصْحَابِكَ خَيْرٌ ، فَعَسَى أَنْ يَكُونَ عِنْدَكَ ، اصْدُقْنِي " ، فَقَالَ : صَدَقَ الْأَعْرَابِيُّ يَا رَسُولَ اللهِ ، الْخَبَرُ مِثْلُ مَا قَالَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَهَافَتُونَ فِي الْكَذِبِ تَهَافُتَ الْفَرَاشِ فِي النَّارِ ، كُلُّ كَذِبٍ مَكْتُوبٌ لَا مَحَالَةَ ، إِلَّا أَنْ يَكْذِبَ الرَّجُلُ فِي الْحَرْبِ ، فَإِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ ، أَوْ يَكْذِبَ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمَا ، أَوْ يَكْذِبَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ لِيُرْضِيَهَا " .
ترجمہ

سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جھوٹ بولنا درست نہیں ہے سوائے تین صورتوں کے: ایک یہ کہ انسان جنگ میں جھوٹ بولے کیونکہ جنگ چال اور تدبیر کا نام ہے، دوسرا یہ کہ دو افراد کے درمیان صلح و صفائی کروانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لے، اور تیسرا یہ کہ شوہر اپنی بیوی کو راضی و خوش کرنے کے لیے اس سے (محبت آمیز) جھوٹ بولے۔“
یحییٰ بن ابی زائدہ نے اس روایت میں داؤد کی مخالفت کی ہے اور اسے شہر سے مرسل بیان کیا ہے، نیز داؤد نے عبداللہ بن عثمان بن خثیم کی بھی مخالفت کی ہے جنہوں نے اسے شہر کے واسطے سے سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، جسے اسماعیل بن عیاش نے ابن خثیم سے مفصل بیان کیا ہے۔
شہر بن حوشب سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جنگی مہم پر مختصر لشکر روانہ فرمایا، وہ لوگ راستے میں ایک دیہاتی کے پاس سے گزرے اور اس سے کہا: اے اعرابی! ہمارے لیے ایک بکری ذبح کرو، وہ اپنی بکریوں میں سے ایک سالہ جوان بکرا لے آیا جسے انہوں نے ذبح کر کے دوپہر تک پکایا اور بھونا۔ اس دوران وہ دیہاتی اپنی بکریوں کو لے کر ایک سائبان کے سائے میں بیٹھا تھا، لشکر والوں نے اس سے کہا: اے اعرابی! اپنی بکریاں یہاں سے نکال دو تاکہ ہم یہاں دوپہر کا آرام (قیلولہ) کر سکیں، اس نے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر التجا کرتا ہوں کہ ایسا نہ کرو، کیونکہ یہ بکریاں حاملہ ہیں، اگر میں نے انہیں باہر نکالا اور انہیں لو لگ گئی تو ان کے بچے ضائع ہو جائیں گے، لیکن انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں اپنی جانیں تمہاری بکریوں سے زیادہ عزیز ہیں، چنانچہ انہوں نے بکریوں کو زبردستی دھوپ میں نکال دیا جس سے تپش کی وجہ سے ان کا حمل ضائع ہو گیا۔ پھر وہ لوگ وہاں سے کوچ کر گئے لیکن جب مدینہ پہنچے تو دیکھا کہ وہ اعرابی ان سے پہلے ہی رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں پہنچ کر سارا ماجرا سنا چکا تھا، جب آپ ﷺ نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے انکار کر دیا، تب آپ ﷺ نے ان میں سے ایک شخص کو مخاطب کر کے فرمایا: ”اے فلاں! اگر تمہارے ساتھیوں میں کچھ بھی خیر باقی ہے تو مجھے امید ہے کہ وہ تمہارے پاس ہوگی، لہٰذا مجھے سچ سچ بتاؤ۔“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اعرابی نے سچ کہا ہے، واقعہ بالکل وہی ہے جو اس نے بیان کیا۔ تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ جھوٹ میں اس طرح دھڑا دھڑ گرے جا رہے ہو جیسے پروانے آگ میں گرتے ہیں، یاد رکھو! ہر جھوٹ لازمی طور پر (نامۂ اعمال میں) لکھا جاتا ہے، سوائے اس کے کہ کوئی شخص جنگ میں جھوٹ بولے کیونکہ جنگ ایک چال اور حکمتِ عملی ہے، یا دو آدمیوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولے، یا شوہر اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لیے اس سے (خوش کلامی والا) جھوٹ بولے۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2628
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 2628 / 2»