❮
❯
حدیث نمبر: 2629
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ سَرِيَّةً ضَاحِيَةَ مُضَرَ ، فَنَزَلُوا بِأَرْضٍ صَحْرَاءَ ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا إِذَا هُمْ بِقُبَّةٍ ، فَإِذَا بِفِنَائِهَا غَنَمٌ مُرَاحَةٌ ، فَأَتَوْا صَاحِبَ الْغَنَمِ ، فَوَقَفُوا عَلَيْهِ ، فَقَالُوا : أَجْزِرْنَا ، فَأَخْرَجَ لَهُمْ شَاةً ، فَسَخِطُوهَا ، ثُمَّ أَخْرَجَ لَهُمْ شَاةً أُخْرَى فَسَخِطُوهَا ، فَقَالَ : مَا فِي غَنَمِي إِلَّا فَحْلُهَا أَوْ شَاةٌ رُبَّى ، فَأَخَذُوا شَاةً مِنَ الْغَنَمِ ، فَلَمَّا أَظْهَرُوا ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ ظِلَالٌ يَسْتَظِلُّونَ بِهَا مِنَ الْحَرِّ ، وَهُمْ بِأَرْضٍ لَا ظِلَالَ فِيهَا ، وَقَدْ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ غَنَمَهُ فِي ظُلَّتِهِ ، فَقَالُوا : نَحْنُ أَحَقُّ بِالظِّلِّ مِنْ هَذِهِ الْغَنَمِ ، فَأَتَوْهُ ، فَقَالُوا : أَخْرِجْ غَنَمَكَ الْمُسْتَظِلَّ فِي هَذَا الظِّلِّ ، فَقَالَ : إِنَّكُمْ مَتَى تُخْرِجُونَ غَنَمِي تَمْرَضُ ، وَتَطْرَحُ أَوْلَادَهَا ، وَأَنَا امْرُؤٌ قَدْ تَزَكَّيْتُ ، وَأَسْلَمْتُ ، فَأَخْرَجُوا غَنَمَهُ ، فَلَمْ يَكُنْ إِلَّا سَاعَةٌ ، حَتَّى تَنَاغَرَتْ ، وَطَرَحَتْ أَوْلَادَهَا ، فَأَقْبَلَ الْأَعْرَابِيُّ سَرِيعًا ، حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي صُنِعَ بِهِ ، فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ غَضَبًا شَدِيدًا ، ثُمَّ أَجْلَسَهُ ، حَتَّى قَدِمَ الْقَوْمُ ، فَسَأَلَهُمْ ، فَقَالُوا : كَذَبَ ، فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضُ الْغَضَبِ ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : وَالَّذِي أُقْسِمُ بِهِ ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يُخْبِرَكَ اللهُ بِخَبَرِي وَخَبَرِهِمْ ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَادِقٌ ، فَانْتَجَاهُمْ رَجُلًا رَجُلًا ، فَلَمَّا انْتَجَى مِنْهُمْ رَجُلًا فَنَاشَدَهُ اللهَ تَعَالَى إِلَّا حَدَّثَهُ كَمَا حَدَّثَهُ الْأَعْرَابِيُّ ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، فَلَا يَحْمِلَنَّكُمْ أَنْ تُتَابِعُوا فِي الْكَذِبِ كَمَا يَتَتَابَعُ الْفَرَاشُ فِي النَّارِ ، كُلُّ الْكَذِبِ يُكْتَبُ عَلَى ابْنِ آدَمَ إِلَّا ثَلَاثَ خِصَالٍ : امْرُؤٌ كَذَبَ امْرَأَتَهُ لِتَرْضَى عَنْهُ ... " الْحَدِيثَ .
وَرَوَاهُ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنِ النَّوَّاسِ أَيْضًا مُطَوَّلًا .
ترجمہ

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ مضر کے نواحی علاقے کی جانب ایک جنگی دستہ روانہ فرمایا، وہ ایک ریگستانی علاقے میں رکے، جب صبح ہوئی تو انہوں نے وہاں ایک خیمہ دیکھا جس کے سامنے والے صحن میں بھیڑ بکریاں آرام کر رہی تھیں، وہ ریوڑ کے مالک کے پاس آئے اور اس کے پاس کھڑے ہو کر مطالبہ کیا کہ ”ہمیں ذبح کرنے کے لیے کوئی جانور دو“، اس نے انہیں ایک بکری نکال کر دی تو انہوں نے اسے حقیر سمجھ کر ناپسند کیا، پھر اس نے دوسری بکری نکالی تو اسے بھی ناپسند کر دیا، اس مالک نے کہا: ”میرے ریوڑ میں اب صرف نر مینڈھا یا دودھ پلانے والی (بچے والی) بکری ہی باقی ہے“، لیکن انہوں نے ریوڑ سے ایک بکری زبردستی لے لی، پھر جب دوپہر کا وقت ہوا تو ان کے پاس تپش سے بچنے کے لیے کوئی سایہ نہ تھا اور وہ ایسے بنجر علاقے میں تھے جہاں سایہ میسر نہ تھا، جبکہ اس دیہاتی کی بکریاں اپنے سائے والے چھپر میں بیٹھی تھیں، ان لوگوں نے کہا: ”ان بکریوں کے مقابلے میں ہم سائے کے زیادہ حق دار ہیں“، وہ اس کے پاس آئے اور کہا: ”اپنی بکریوں کو اس سائے سے باہر نکالو“، اس نے کہا: ”اگر تم نے میری بکریوں کو یہاں سے نکالا تو وہ بیمار ہو جائیں گی اور ان کے پیٹ کے بچے گر جائیں گے، اور میں تو وہ آدمی ہوں جس نے زکوٰۃ بھی دی ہے اور اسلام بھی قبول کیا ہے“، مگر انہوں نے اس کی بکریاں باہر نکال دیں، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ وہ تپش کی وجہ سے ہانپنے لگیں اور ان کے حمل گر گئے، وہ اعرابی فوراً مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا اور آپ کو اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کی خبر دی، جس پر آپ ﷺ کو سخت غصہ آیا، پھر آپ ﷺ نے اسے اپنے پاس بٹھا لیا یہاں تک کہ وہ پورا گروہ بھی واپس آ گیا، آپ ﷺ نے ان سے پوچھا تو انہوں نے اپنی صفائی میں کہہ دیا کہ ”اس نے جھوٹ بولا ہے“، جس پر رسول اللہ ﷺ کا غصہ کچھ کم ہوا، تب اس اعرابی نے کہا: ”اس ذات کی قسم جس کی میں قسم کھاتا ہوں! مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو میری اور ان کی اصل حقیقت سے ضرور آگاہ فرما دے گا“، تو رسول اللہ ﷺ کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ وہ سچا ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے ان میں سے ایک ایک شخص کو تنہائی میں بلایا اور اسے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ وہ وہی بات بتائے جو اعرابی نے بتائی ہے، پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور وعظ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! تم ایک دوسرے کی پیروی میں جھوٹ کے پیچھے اس طرح مت بہو جس طرح پتنگے آگ میں گرتے ہیں، ابنِ آدم کا ہر جھوٹ اس کے خلاف لکھا جاتا ہے سوائے تین حالتوں کے: ایک وہ شخص جو اپنی بیوی سے اسے راضی کرنے کے لیے کوئی بات کہے...“
اسے مسلمہ بن علقمہ نے داؤد سے، انہوں نے شہر بن حوشب سے اور انہوں نے نواس رضی اللہ عنہ سے بھی تفصیل کے ساتھ روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2629
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 10353، وأخرجه شرح مشكل الآثار برقم: 2914، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3215/2»