کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: بیٹیاں ملنے پر ان کی پرورش میں صبر کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنِ ابْنِ حُدَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وُلِدَتْ لَهُ أُنْثَى فَلَمْ يَئِدْهَا وَلَمْ يُهِنْهَا وَلَمْ يُؤْثِرْ وَلَدَهُ عَلَيْهَا ، أَدْخَلَهُ اللهُ تَعَالَى بِهَا الْجَنَّةَ " .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کے ہاں بیٹی پیدا ہو، پھر وہ (زمانہ جاہلیت کی طرح) اسے نہ تو زندہ درگور کرے، نہ اسے ذلیل و خوار سمجھے اور نہ ہی اپنے بیٹوں کو اس پر ترجیح دے، تو اللہ تعالیٰ اس بیٹی کے ساتھ کیے جانے والے حسنِ سلوک کی بدولت اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔“
اس حدیث کی سند میں ابن حدیر نامی راوی کی وجہ سے کلام ہے، تاہم بیٹیوں کی بہتر پرورش اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کے متعلق دیگر صحیح احادیث اس کے مفہوم کی تائید کرتی ہیں۔
اس حدیث کی سند میں ابن حدیر نامی راوی کی وجہ سے کلام ہے، تاہم بیٹیوں کی بہتر پرورش اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کے متعلق دیگر صحیح احادیث اس کے مفہوم کی تائید کرتی ہیں۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وُلِدَتْ لَهُ ابْنَتَانِ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِمَا مَا صَحِبَهُمَا أَوْ صَحِبَهَا أَدْخَلَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمَا الْجَنَّةَ " .
2555 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ فِطْرٍ بِهِ .
2555 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ فِطْرٍ بِهِ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کے ہاں دو بیٹیاں پیدا ہوں، پھر وہ جب تک ان کے ساتھ رہے یا جب تک وہ دونوں اس کے پاس رہیں، ان کے ساتھ بہترین سلوک اور حسنِ معاملت اختیار کرے، تو اللہ عزوجل ان بیٹیوں کی حسنِ پرورش کی برکت سے اسے ضرور جنت میں داخل فرمائے گا۔“
اور امام ابو یعلیٰ نے کہا کہ ہم سے ابو خیثمہ نے بیان کیا، انہوں نے جریر سے اور انہوں نے فطر کے واسطے سے یہی حدیث روایت کی ہے۔
اور امام ابو یعلیٰ نے کہا کہ ہم سے ابو خیثمہ نے بیان کیا، انہوں نے جریر سے اور انہوں نے فطر کے واسطے سے یہی حدیث روایت کی ہے۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ آوَى يَتِيمًا مِنْ بَيْنِ الْمُسْلِمِينَ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يُشْبِعَهُ ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ، إِلَّا أَنْ يَعْمَلَ ذَنْبًا لَا يُغْفَرُ لَهُ ، وَمَنْ عَالَ ثَلَاثَ بَنَاتٍ ، فَأَدَّبَهُنَّ وَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوِ ابْنَتَانِ ؟ قَالَ : " أَوِ ابْنَتَانِ " ، حَتَّى لَوْ قَالُوا : وَاحِدَةٌ ، لَقَالَ : وَاحِدَةٌ ، " وَمَنْ أَذْهَبَ كَرِيمَتَيْهِ ، كَانَ ثَوَابُهُ عَلَى اللهِ الْجَنَّةَ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَمَا كَرِيمَتَاهُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَيْنَاهُ " ، فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : هَذَا مِنْ كَرَائِمِ الْحَدِيثِ وَغُرَرِهِ .
2556 \ 2 - وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ بِهِ .
2556 \ 3 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَنَشٍ وَهُوَ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ بِهِ .
2556 \ 4 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ بِهِ .
2556 \ 2 - وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ بِهِ .
2556 \ 3 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَنَشٍ وَهُوَ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ بِهِ .
2556 \ 4 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ بِهِ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جس نے مسلمانوں کے کسی یتیم بچے کو اپنے کھانے پینے میں شریک کیا، یہاں تک کہ اسے سیر کر دیا، تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، الا یہ کہ وہ کوئی ایسا گناہ کرے جو کبھی معاف نہ کیا جائے۔ اور جس نے تین بیٹیوں کی پرورش کی، انہیں عمدہ ادب و اخلاق سکھایا اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا، تو اس کے لیے بھی جنت واجب ہو گئی۔" صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا دو بیٹیوں کی پرورش پر بھی یہی اجر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں، دو بیٹیوں کی پرورش پر بھی یہی صلہ ہے۔" راوی کہتے ہیں کہ اگر صحابہ ایک بیٹی کے متعلق بھی سوال کرتے تو آپ ﷺ یقیناً ایک ہی فرماتے۔ آپ ﷺ نے مزید فرمایا: "اور جس کی اللہ تعالیٰ نے اس کی دو محبوب و قیمتی چیزیں لے لیں، تو اللہ کے پاس اس کا صلہ جنت ہی ہے۔" صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ان دو محبوب چیزوں سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "اس کی دونوں آنکھیں۔" سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو فرماتے: یہ حدیث نہایت نفیس، بیش قیمت اور روشن ترین احادیث میں سے ہے۔
امام مسدد، عبد بن حمید، حارث اور ابویعلی نے اس حدیث کو مختلف اسانید کے ساتھ خالد، علی بن عاصم اور معتمر بن سلیمان کے واسطوں سے حسین بن قیس (حنش) سے روایت کیا ہے۔
امام مسدد، عبد بن حمید، حارث اور ابویعلی نے اس حدیث کو مختلف اسانید کے ساتھ خالد، علی بن عاصم اور معتمر بن سلیمان کے واسطوں سے حسین بن قیس (حنش) سے روایت کیا ہے۔