المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ مِنْ رزق البنات فصبر عليهن باب: بیٹیاں ملنے پر ان کی پرورش میں صبر کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2554
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنِ ابْنِ حُدَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وُلِدَتْ لَهُ أُنْثَى فَلَمْ يَئِدْهَا وَلَمْ يُهِنْهَا وَلَمْ يُؤْثِرْ وَلَدَهُ عَلَيْهَا ، أَدْخَلَهُ اللهُ تَعَالَى بِهَا الْجَنَّةَ " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کے ہاں بیٹی پیدا ہو، پھر وہ (زمانہ جاہلیت کی طرح) اسے نہ تو زندہ درگور کرے، نہ اسے ذلیل و خوار سمجھے اور نہ ہی اپنے بیٹوں کو اس پر ترجیح دے، تو اللہ تعالیٰ اس بیٹی کے ساتھ کیے جانے والے حسنِ سلوک کی بدولت اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔“
اس حدیث کی سند میں ابن حدیر نامی راوی کی وجہ سے کلام ہے، تاہم بیٹیوں کی بہتر پرورش اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کے متعلق دیگر صحیح احادیث اس کے مفہوم کی تائید کرتی ہیں۔