کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: غیر موالی یا غیر باپ کی طرف نسبت کرنے اور والدین کو گالی دینے کی ممانعت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ رَغْبَةً عَنْهُمْ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ ، وَمَنْ سَبَّ وَالِدَهُ أَوْ وَالِدَيْهِ ، فَكَذَلِكَ " .
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف اپنی نسبت منسوب کی، یا اپنے حقیقی سرپرستوں اور محسنوں سے بے رغبتی کرتے ہوئے کسی اور کی طرف اپنی نسبت منسوب کی، تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے، اور جس نے اپنے والد یا اپنے والدین کو گالی دی، تو اس کے لیے بھی یہی حکم ہے۔“
مسند أبي يعلى: 2552، امام البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کے متن کو صحیح قرار دیا ہے، دیکھیے: صحیح الجامع الصغیر: 6140۔
مسند أبي يعلى: 2552، امام البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کے متن کو صحیح قرار دیا ہے، دیکھیے: صحیح الجامع الصغیر: 6140۔
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْلَيَانِ : حَبَشِيٌّ وَنَبَطِيٌّ ، فَاسْتَبَّا ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : يَا حَبَشِيُّ ، وَقَالَ الْآخَرُ : يَا نَبَطِيُّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُولُوا هَذَا ، إِنَّمَا أَنْتُمَا رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دو آزاد کردہ غلام تھے، جن میں سے ایک حبشی نژاد اور دوسرا نبطی الاصل تھا، ان دونوں نے (کسی معاملے پر) باہم ایک دوسرے کو برا بھلا کہا اور گالی گلوچ کی جبکہ نبی کریم ﷺ (ان کی یہ تکرار) سماعت فرما رہے تھے، پس ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی کو (بطورِ عار) کہا: ”اے حبشی!“ اور دوسرے نے (جواباً) کہا: ”اے نبطی!“ تو نبی کریم ﷺ نے (انہیں اس نسلی عصبیت اور جاہلانہ امتیاز سے روکتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”تم ایسی باتیں ہرگز مت کہو، حقیقت تو یہ ہے کہ تم دونوں محمد ﷺ کے اصحاب میں سے دو مرد ہو۔“
اس حدیث کو امام احمد نے اپنی مسند (12562) اور امام ابویعلیٰ نے (3662) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں یزید بن ابی زیاد راوی کے حافظہ پر کلام ہونے کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، تاہم حدیث کا معنی و مفہوم نسلی تفاخر کی ممانعت سے متعلق دیگر صحیح نصوص کے عین مطابق ہے۔
اس حدیث کو امام احمد نے اپنی مسند (12562) اور امام ابویعلیٰ نے (3662) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں یزید بن ابی زیاد راوی کے حافظہ پر کلام ہونے کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، تاہم حدیث کا معنی و مفہوم نسلی تفاخر کی ممانعت سے متعلق دیگر صحیح نصوص کے عین مطابق ہے۔