❮
❯
حدیث نمبر: 2556
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ آوَى يَتِيمًا مِنْ بَيْنِ الْمُسْلِمِينَ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يُشْبِعَهُ ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ، إِلَّا أَنْ يَعْمَلَ ذَنْبًا لَا يُغْفَرُ لَهُ ، وَمَنْ عَالَ ثَلَاثَ بَنَاتٍ ، فَأَدَّبَهُنَّ وَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوِ ابْنَتَانِ ؟ قَالَ : " أَوِ ابْنَتَانِ " ، حَتَّى لَوْ قَالُوا : وَاحِدَةٌ ، لَقَالَ : وَاحِدَةٌ ، " وَمَنْ أَذْهَبَ كَرِيمَتَيْهِ ، كَانَ ثَوَابُهُ عَلَى اللهِ الْجَنَّةَ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَمَا كَرِيمَتَاهُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَيْنَاهُ " ، فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : هَذَا مِنْ كَرَائِمِ الْحَدِيثِ وَغُرَرِهِ .
2556 \ 2 - وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ بِهِ .
2556 \ 3 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَنَشٍ وَهُوَ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ بِهِ .
2556 \ 4 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ بِهِ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جس نے مسلمانوں کے کسی یتیم بچے کو اپنے کھانے پینے میں شریک کیا، یہاں تک کہ اسے سیر کر دیا، تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، الا یہ کہ وہ کوئی ایسا گناہ کرے جو کبھی معاف نہ کیا جائے۔ اور جس نے تین بیٹیوں کی پرورش کی، انہیں عمدہ ادب و اخلاق سکھایا اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا، تو اس کے لیے بھی جنت واجب ہو گئی۔" صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا دو بیٹیوں کی پرورش پر بھی یہی اجر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں، دو بیٹیوں کی پرورش پر بھی یہی صلہ ہے۔" راوی کہتے ہیں کہ اگر صحابہ ایک بیٹی کے متعلق بھی سوال کرتے تو آپ ﷺ یقیناً ایک ہی فرماتے۔ آپ ﷺ نے مزید فرمایا: "اور جس کی اللہ تعالیٰ نے اس کی دو محبوب و قیمتی چیزیں لے لیں، تو اللہ کے پاس اس کا صلہ جنت ہی ہے۔" صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ان دو محبوب چیزوں سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "اس کی دونوں آنکھیں۔" سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو فرماتے: یہ حدیث نہایت نفیس، بیش قیمت اور روشن ترین احادیث میں سے ہے۔
امام مسدد، عبد بن حمید، حارث اور ابویعلی نے اس حدیث کو مختلف اسانید کے ساتھ خالد، علی بن عاصم اور معتمر بن سلیمان کے واسطوں سے حسین بن قیس (حنش) سے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البر والصلة / حدیث: 2556
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا »
«أخرجه صحيح ابن حبان برقم: 2945، وأخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 449، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 7445، وأخرجه جامع الترمذي برقم: 1917، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 3670، وأخرجه مسند أحمد برقم: 2135، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 2457، وأخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 615، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 2555 / 1، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 25946، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 10836»