المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ مِنْ رزق البنات فصبر عليهن باب: بیٹیاں ملنے پر ان کی پرورش میں صبر کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2555
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وُلِدَتْ لَهُ ابْنَتَانِ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِمَا مَا صَحِبَهُمَا أَوْ صَحِبَهَا أَدْخَلَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمَا الْجَنَّةَ " .
2555 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ فِطْرٍ بِهِ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کے ہاں دو بیٹیاں پیدا ہوں، پھر وہ جب تک ان کے ساتھ رہے یا جب تک وہ دونوں اس کے پاس رہیں، ان کے ساتھ بہترین سلوک اور حسنِ معاملت اختیار کرے، تو اللہ عزوجل ان بیٹیوں کی حسنِ پرورش کی برکت سے اسے ضرور جنت میں داخل فرمائے گا۔“
اور امام ابو یعلیٰ نے کہا کہ ہم سے ابو خیثمہ نے بیان کیا، انہوں نے جریر سے اور انہوں نے فطر کے واسطے سے یہی حدیث روایت کی ہے۔