کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: مہمان نوازی اور ہر پیاسے جاندار کی خدمت میں اجر کا بیان۔
❮
❯
قَالَ إِسْحَاقُ : " أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنِ الْمِقْدَادِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا بَاتَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا فَحَقٌّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ نُصْرَتُهُ حَتَّى يَأْخُذُوا قِرَاهُ مِنْ زَرْعِهِ أَوْ ضَرْعِهِ .
هَكَذَا أَخْرَجَهُ فِي مُسْنَدِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، وَأَصْلُهُ مَعْرُوفٌ مِنْ حَدِيثِ الْمِقْدَادِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ .
ترجمہ
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب مہمان (کسی قوم کے ہاں) محروم (اور بھوکا) رات گزارے ، تو تمام مسلمانوں پر اس کی مدد کرنا واجب ہو جاتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اس کی مہمانی کا حق (میزبان کے ) کھیت یا مویشی (کے دودھ) سے وصول کروا دیں ۔ “
تعلیق : اس طرح امام اسحاق نے اسے مسند مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ میں تخریج کیا ہے ، جبکہ اس کی اصل سیدنا مقداد بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کی حدیث سے معروف ہے ۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأطعمة والأشربة / حدیث: 2386
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 7272، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 3750، وأخرجه مسند الدارمي برقم: 2080، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 3677، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 18761، وأخرجه مسند أحمد برقم: 17445، وأخرجه مسند الطيالسي برقم: 1247، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 6635، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 1839، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 621»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَسْمُولِيُّ ، ثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُخَوَّلٍ الْبَهْزِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، نَلْقَى الْإِبِلَ وَبِهَا لَبَنٌ وَهِيَ مُصَرَّاةٌ ، وَنَحْنُ مُحْتَاجُونَ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَادِ يَا صَاحِبَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا ، فَإِنْ جَاءَ وَإِلَّا فَاحْلُلْ صِرَارَهَا ثُمَّ اشْرَبْ ، ثُمَّ صُرَّ وَأَبْقِ لِلَّبَنٍ دَاعِيَةً " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَوْصِنِي . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِمِ الصَّلَاةَ ، وَآتِ الزَّكَاةَ ، وَصُمْ رَمَضَانَ ، وَحُجَّ الْبَيْتَ ، وَاعْتَمِرْ ، وَبِرَّ وَالِدَيْكَ ، وَصِلْ رَحِمَكَ ، وَاقْرِ الضَّيْفَ ، وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَزُلْ مَعَ الْحَقِّ حَيْثُ زَالَ " .
قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، الضَّوَالُّ تَرِدُ عَلَيْنَا هَلْ لَنَا أَجْرٌ أَنْ نَسْقِيَهَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ .
ترجمہ
قاسم بن مخول البہزی اپنے والد ( سیدنا مخول بہزی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم (راستے میں) اونٹوں سے ملتے ہیں جن میں دودھ موجود ہوتا ہے اور وہ صرّہ باندھے ہوئے (دودھ روک کر رکھے گئے ) ہوتے ہیں ، جبکہ ہم (شدید) محتاج و ضرورت مند ہوتے ہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم تین بار آواز لگاؤ : ’اے اونٹوں کے مالک ! ، اگر وہ آ جائے (تو ٹھیک) ، ورنہ اس کے تھنوں سے کپڑا (صرّہ) کھولو اور دودھ پی لو ، پھر اسے دوبارہ باندھ دو اور تھن میں کچھ دودھ چھوڑ دو تاکہ اور دودھ اترنے کی کشش باقی رہے ۔ “ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! مجھے کوئی وصیت فرمائیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”نماز قائم کرو ، زکوۃ ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو ، بیت اللہ کا حج کرو ، عمرہ کرو ، اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو ، صلہ رحمی (رشتہ داروں سے اچھا برتاؤ) کرو ، مہمان کی مہمانی کرو ، نیکی کا حکم دو ، برائی سے روکو ، اور حق جہاں کہیں بھی جائے تم بھی اسی کے ساتھ رہو ۔ “
(راوی کہتے ہیں کہ) میں نے پھر عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! بھٹکے ہوئے مویشی ہمارے پاس سے گزرتے ہیں ، تو کیا انہیں پانی پلانے پر ہمیں کوئی ثواب ملے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ہاں ! ہر ترو تازہ اور زندہ (ذی روح) جگر والے کو پانی پلانے میں اجر و ثواب ہے ۔ “
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأطعمة والأشربة / حدیث: 2387
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه صحيح ابن حبان برقم: 5882، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 7277، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 19719، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 1568، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 1483، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 763، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 7542»