المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأطعمة والأشربة— کھانے پینے کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ قرى الضَّيْفِ وَمَا جَاءَ فِي كُلِّ كبد حرى أجر باب: مہمان نوازی اور ہر پیاسے جاندار کی خدمت میں اجر کا بیان۔
حدیث نمبر: 2386
قَالَ إِسْحَاقُ : " أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنِ الْمِقْدَادِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا بَاتَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا فَحَقٌّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ نُصْرَتُهُ حَتَّى يَأْخُذُوا قِرَاهُ مِنْ زَرْعِهِ أَوْ ضَرْعِهِ .
هَكَذَا أَخْرَجَهُ فِي مُسْنَدِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، وَأَصْلُهُ مَعْرُوفٌ مِنْ حَدِيثِ الْمِقْدَادِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ .ترجمہ
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب مہمان (کسی قوم کے ہاں) محروم (اور بھوکا) رات گزارے ، تو تمام مسلمانوں پر اس کی مدد کرنا واجب ہو جاتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اس کی مہمانی کا حق (میزبان کے ) کھیت یا مویشی (کے دودھ) سے وصول کروا دیں ۔ “
تعلیق : اس طرح امام اسحاق نے اسے مسند مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ میں تخریج کیا ہے ، جبکہ اس کی اصل سیدنا مقداد بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کی حدیث سے معروف ہے ۔