کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: مہمان نوازی کے احکام و مسائل کا بیان۔
❮
❯
قَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ، فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ أَلَا فَلْيَرْتَحِلِ الضَّيْفُ الضَّيْفَ وَلَا يَشُقَّ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ .
2388 \ 2 - وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ لَيْثٍ نَحْوَهُ .
[ وَ ] حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ لَيْثٍ نَحْوَهُ .
2388 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْحَارِثِ ، ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَوْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، [نَحْوَهُ] وَلَفْظُهُ : لِلضَّيْفِ عَلَى مَنْ نَزَلَ بِهِ مِنَ الْحَقِّ ثَلَاثٌ فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ ، وَعَلَى الضَّيْفِ أَنْ يَرْتَحِلَ لَا يُؤْلِمُ أَهْلَ مَنْزِلِهِ .
ترجمہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”مہمان نوازی تین دن تک ہوتی ہے، اور جو اس سے زائد ہو تو وہ صدقہ ہے، خبردار! مہمان کو چاہیے کہ وہ (تین دن کے بعد) کوچ کر جائے اور گھر والوں پر تنگی و مشقت نہ ڈالے۔“
اور امام مسدد نے (دوسری سند سے) لیث کے واسطے سے اسی کی مثل روایت کیا ہے، اور نیز ہم سے حماد بن زید نے لیث سے اسی کی مثل روایت کیا ہے۔
اور امام ابو یعلیٰ نے (تیسری سند سے) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کی مثل روایت کیا ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں: ”جس شخص کے ہاں مہمان اترے، اس پر مہمان کا تین دن کا حق ہے اور جو اس سے زائد ہو وہ صدقہ ہے، اور مہمان پر بھی لازم ہے کہ وہ روانہ ہو جائے اور اپنے میزبان کو تکلیف نہ پہنچائے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأطعمة والأشربة / حدیث: 2388
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 5672، 5785، 5787، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 47، وأخرجه سنن الترمذي برقم: 2500، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 5154، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 3971، وأخرجه فتح الباري برقم: 5672، 5784، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 19746، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 7378، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 285، 569، 3082، 8841، 9077، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 5116/2»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَوْنٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : سَافَرَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْمَلُوا ، فَمَرُّوا بِحَيٍّ مِنَ الْأَعْرَابِ فَسَأَلُوهُمُ الْقِرَى فَأَبَوْا ، فَسَأَلُوهُمُ الشِّرَى فَأَبَوْا فَضَبَطُوهُمْ ، فَأَصَابُوا مِنْ طَعَامِهِمْ ، فَذَهَبَتِ الْأَعْرَابُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَشْكُونَهُمْ ، فَأَشْفَقَتِ الْأَنْصَارُ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : تَمْنَعُونَ ابْنَ السَّبِيلِ مَا يَخْلُقُ اللهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ فِي ضُرُوعِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ ؟ لَابْنُ السَّبِيلِ أَحَقُّ بِالْمَاءِ مِنَ الْبَانِي عَلَيْهِ " .
ترجمہ
عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے کچھ صحابہ کرام سفر پر نکلے، تو ان کا توشہ ختم ہو گیا، چنانچہ ان کا گزر اعراب (دیہاتیوں) کے ایک قبیلے پر ہوا تو انہوں نے ان سے مہمانی (اور کھانے) کی درخواست کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا، پھر انہوں نے خریدنے کی درخواست کی تو انہوں نے اس سے بھی انکار کر دیا، جس پر صحابہ نے انہیں قابو میں کر کے ان کے طعام میں سے کچھ (ضرورت کے مطابق) حاصل کر لیا۔ اس پر وہ اعراب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کی شکایت لے کر پہنچے، تو انصار (سیدنا عمر کے غضب سے) ڈر گئے، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (ان دیہاتیوں سے) فرمایا: ”تم مسافر کو اس چیز سے روکتے ہو جو اللہ تعالیٰ رات دن اونٹوں اور بکریوں کے تھنوں میں پیدا فرماتا ہے؟ مسافر کا پانی پر (بھی) اس شخص سے زیادہ حق ہے جس نے اس پر عمارت (یا قبضہ) بنا رکھی ہو!“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأطعمة والأشربة / حدیث: 2389
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 19731»