المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأطعمة والأشربة— کھانے پینے کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ قرى الضَّيْفِ وَمَا جَاءَ فِي كُلِّ كبد حرى أجر باب: مہمان نوازی اور ہر پیاسے جاندار کی خدمت میں اجر کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَسْمُولِيُّ ، ثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُخَوَّلٍ الْبَهْزِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، نَلْقَى الْإِبِلَ وَبِهَا لَبَنٌ وَهِيَ مُصَرَّاةٌ ، وَنَحْنُ مُحْتَاجُونَ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَادِ يَا صَاحِبَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا ، فَإِنْ جَاءَ وَإِلَّا فَاحْلُلْ صِرَارَهَا ثُمَّ اشْرَبْ ، ثُمَّ صُرَّ وَأَبْقِ لِلَّبَنٍ دَاعِيَةً " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَوْصِنِي . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِمِ الصَّلَاةَ ، وَآتِ الزَّكَاةَ ، وَصُمْ رَمَضَانَ ، وَحُجَّ الْبَيْتَ ، وَاعْتَمِرْ ، وَبِرَّ وَالِدَيْكَ ، وَصِلْ رَحِمَكَ ، وَاقْرِ الضَّيْفَ ، وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَزُلْ مَعَ الْحَقِّ حَيْثُ زَالَ " .
قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، الضَّوَالُّ تَرِدُ عَلَيْنَا هَلْ لَنَا أَجْرٌ أَنْ نَسْقِيَهَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ .قاسم بن مخول البہزی اپنے والد ( سیدنا مخول بہزی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم (راستے میں) اونٹوں سے ملتے ہیں جن میں دودھ موجود ہوتا ہے اور وہ صرّہ باندھے ہوئے (دودھ روک کر رکھے گئے ) ہوتے ہیں ، جبکہ ہم (شدید) محتاج و ضرورت مند ہوتے ہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم تین بار آواز لگاؤ : ’اے اونٹوں کے مالک ! ، اگر وہ آ جائے (تو ٹھیک) ، ورنہ اس کے تھنوں سے کپڑا (صرّہ) کھولو اور دودھ پی لو ، پھر اسے دوبارہ باندھ دو اور تھن میں کچھ دودھ چھوڑ دو تاکہ اور دودھ اترنے کی کشش باقی رہے ۔ “ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! مجھے کوئی وصیت فرمائیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”نماز قائم کرو ، زکوۃ ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو ، بیت اللہ کا حج کرو ، عمرہ کرو ، اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو ، صلہ رحمی (رشتہ داروں سے اچھا برتاؤ) کرو ، مہمان کی مہمانی کرو ، نیکی کا حکم دو ، برائی سے روکو ، اور حق جہاں کہیں بھی جائے تم بھی اسی کے ساتھ رہو ۔ “
(راوی کہتے ہیں کہ) میں نے پھر عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! بھٹکے ہوئے مویشی ہمارے پاس سے گزرتے ہیں ، تو کیا انہیں پانی پلانے پر ہمیں کوئی ثواب ملے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ہاں ! ہر ترو تازہ اور زندہ (ذی روح) جگر والے کو پانی پلانے میں اجر و ثواب ہے ۔ “