کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: گھریلو سانپوں کو قتل کرنے کی ممانعت اور دوسرے سانپوں کو مارنے کی اجازت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْمَكِّيُّ - وَهُوَ الْقَدَّاحُ - عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ : كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لَا تَزَالُ تَرَى جِنَّانًا فِي بَيْتِهَا فَأَمَرَتْ بِهِ فَقُتِلَ ، فَأُتِيَتْ فِي النَّوْمِ فَقِيلَ لَهَا : لِمَ قَتَلْتِ عَبْدَ اللهِ الْمُسْلِمَ ؟ فَقَالَتْ : لَوْ كَانَ مُسْلِمًا مَا اطَّلَعَ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَيْرِ إِذَنٍ ، فَقِيلَ لَهَا : أَمَا إِنَّكِ قَدْ عَلِمْتِ أَنَّهُ كَانَ لَا يَطَّلِعُ إِلَّا حِينَ تَجْمَعِينَ عَلَيْكِ ثِيَابَكِ ، قَالَ : فَلَمَّا أَصْبَحَتْ تَصَدَّقَتْ بِاثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا .
ترجمہ
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر میں اکثر سانپ دیکھا کرتی تھیں ، چنانچہ انہوں نے حکم دیا تو اسے مار دیا گیا ، پھر انہیں خواب میں آ کر کہا گیا : آپ نے اس مسلمان عبداللہ (جن) کو کیوں قتل کروا دیا ؟ انہوں نے فرمایا : اگر وہ مسلمان ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات پر بلا اجازت نظر نہ ڈالتا ! اس پر ان سے کہا گیا : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ وہ صرف اسی وقت نظر آتا تھا جب آپ اپنے کپڑے سمیٹ کر خود کو ڈھانپ لیتی تھیں ؟ راوی کہتا ہے : چنانچہ جب صبح ہوئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (اس کے فدیے یا کفارے کے طور پر) بارہ ہزار (درہم) صدقہ کر دیے ۔
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ فَقَالَ : خُلِقَ الْإِنْسَانُ وَالْحَيَّةُ سَوَاءً إِنْ رَآهَا أَفْزَعَتْهُ ، وَإِنْ لَدَغَتْهُ أَوْجَعَتْهُ ، فَاقْتُلُوهَا حَيْثُ وَجَدْتُمُوهَا .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سانپوں کو قتل کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”انسان اور سانپ کی تخلیق (طبعی طور پر ایک دوسرے کے خلاف) برابر رکھی گئی ہے ، اگر انسان اسے دیکھے تو وہ اسے ڈرا دیتا ہے ، اور اگر سانپ انسان کو ڈس لے تو وہ اسے شدید تکلیف پہنچاتا ہے ، لہٰذا تم انہیں جہاں کہیں بھی پاؤ قتل کر دو ۔ “
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ : حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِي عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : الْحَيَّةُ أَفْسَقُ الْفَسَقَةِ ، فَاقْتُلُوهَا " .
ترجمہ
قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا: ”سانپ تمام موذی جانوروں سے بڑھ کر سرکش اور موذی (فاسق) ہے، لہٰذا تم اسے (جہاں پاؤ) قتل کر دو۔“