المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيد— شکار کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ قتل عمار الدور والإذن فِي قتل الحيات باب: گھریلو سانپوں کو قتل کرنے کی ممانعت اور دوسرے سانپوں کو مارنے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2380
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ : حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِي عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : الْحَيَّةُ أَفْسَقُ الْفَسَقَةِ ، فَاقْتُلُوهَا " .ترجمہ
قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا: ”سانپ تمام موذی جانوروں سے بڑھ کر سرکش اور موذی (فاسق) ہے، لہٰذا تم اسے (جہاں پاؤ) قتل کر دو۔“