المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيد— شکار کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ قتل عمار الدور والإذن فِي قتل الحيات باب: گھریلو سانپوں کو قتل کرنے کی ممانعت اور دوسرے سانپوں کو مارنے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2379
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ فَقَالَ : خُلِقَ الْإِنْسَانُ وَالْحَيَّةُ سَوَاءً إِنْ رَآهَا أَفْزَعَتْهُ ، وَإِنْ لَدَغَتْهُ أَوْجَعَتْهُ ، فَاقْتُلُوهَا حَيْثُ وَجَدْتُمُوهَا .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سانپوں کو قتل کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”انسان اور سانپ کی تخلیق (طبعی طور پر ایک دوسرے کے خلاف) برابر رکھی گئی ہے ، اگر انسان اسے دیکھے تو وہ اسے ڈرا دیتا ہے ، اور اگر سانپ انسان کو ڈس لے تو وہ اسے شدید تکلیف پہنچاتا ہے ، لہٰذا تم انہیں جہاں کہیں بھی پاؤ قتل کر دو ۔ “