❮
❯
حدیث نمبر: 2378
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْمَكِّيُّ - وَهُوَ الْقَدَّاحُ - عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ : كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لَا تَزَالُ تَرَى جِنَّانًا فِي بَيْتِهَا فَأَمَرَتْ بِهِ فَقُتِلَ ، فَأُتِيَتْ فِي النَّوْمِ فَقِيلَ لَهَا : لِمَ قَتَلْتِ عَبْدَ اللهِ الْمُسْلِمَ ؟ فَقَالَتْ : لَوْ كَانَ مُسْلِمًا مَا اطَّلَعَ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَيْرِ إِذَنٍ ، فَقِيلَ لَهَا : أَمَا إِنَّكِ قَدْ عَلِمْتِ أَنَّهُ كَانَ لَا يَطَّلِعُ إِلَّا حِينَ تَجْمَعِينَ عَلَيْكِ ثِيَابَكِ ، قَالَ : فَلَمَّا أَصْبَحَتْ تَصَدَّقَتْ بِاثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا .
ترجمہ

ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر میں اکثر سانپ دیکھا کرتی تھیں ، چنانچہ انہوں نے حکم دیا تو اسے مار دیا گیا ، پھر انہیں خواب میں آ کر کہا گیا : آپ نے اس مسلمان عبداللہ (جن) کو کیوں قتل کروا دیا ؟ انہوں نے فرمایا : اگر وہ مسلمان ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات پر بلا اجازت نظر نہ ڈالتا ! اس پر ان سے کہا گیا : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ وہ صرف اسی وقت نظر آتا تھا جب آپ اپنے کپڑے سمیٹ کر خود کو ڈھانپ لیتی تھیں ؟ راوی کہتا ہے : چنانچہ جب صبح ہوئی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (اس کے فدیے یا کفارے کے طور پر) بارہ ہزار (درہم) صدقہ کر دیے ۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيد / حدیث: 2378
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح لغيره. »
«أخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 16279، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 31154»