کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: عورتوں، بچوں، بوڑھوں، خادموں اور نقیبوں کو قتل کرنے کی ممانعت سے متعلق باب۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ وَاسْتَعْمَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ ، فَرَأَى امْرَأَةً مَقْتُولَةً قَالَ : مَنْ قَتَلَ هَذِهِ ؟ قَالُوا : قَتَلَهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ : الْحَقْ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَقُلْ لَهُ : لَا تَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلَا صَبِيًّا وَلَا عَسِيفًا . وَالْعَسِيفُ : الْأَجِيرُ .
ترجمہ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک غزوے کے لیے تشریف لے گئے اور آپ ﷺ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اپنے ہراول دستے کا امیر مقرر فرمایا، اس دوران آپ ﷺ نے ایک مقتولہ عورت کو دیکھا تو دریافت فرمایا کہ ”اسے کس نے قتل کیا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا کہ اسے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے قتل کیا ہے، تب رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا کہ ”سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے جا کر ملو اور ان سے کہو کہ کسی عورت، بچے یا عسیف کو ہرگز قتل نہ کریں“، اور عسیف سے مراد ”اجرت پر کام کرنے والا مزدور“ ہے۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسْرَعَ النَّاسُ فِي قَتْلِ الْوِلْدَانِ يَوْمَ خَيْبَرَ ، فَغَضِبَ وَقَالَ : نَهَيْتُكُمْ عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَالْكَبِيرِ . فَقَالَ رَجُلٌ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ ، وَمَا عَلَيْنَا مِنْ قَتْلِ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ ؟ قَالَ : وَمَا تَدْرُونَ مَا كَانُوا عَامِلِينَ ؟
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ خیبر کے دن لوگوں نے بچوں کے قتل میں بڑی عجلت دکھائی، جس پر رسول اللہ ﷺ غضبناک ہوئے اور ارشاد فرمایا: ”میں نے تمہیں بچوں اور بوڑھوں کو قتل کرنے سے منع کیا تھا“، تو ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، مشرکین کے بچوں کو قتل کرنے میں ہمارا کیا حرج ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اور تمہیں کیا خبر کہ وہ (بڑے ہو کر) کیا عمل کرنے والے تھے؟“۔
وَبِهِ إِلَى أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَالَ : مَنْ قَتَلَ هَذِهِ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ أَرْدَفْتُهَا خَلْفِي فَأَرَادَتْ قَتْلِي فَدَفَيْتُهَا ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَفْنِهَا .
( 89 ) وَحَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي قِصَّةِ قَتْلِ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ مِنَ الْمَغَازِي
( 89 ) وَحَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي قِصَّةِ قَتْلِ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ مِنَ الْمَغَازِي
ترجمہ
سیدنا عبد الرحمن بن ابی عمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر غزوۂ خیبر کے دن ایک مقتولہ عورت پر ہوا تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اسے کس نے قتل کیا ہے؟“ ایک شخص نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے؛ میں نے اسے اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا تھا تو اس نے مجھے قتل کرنے کا ارادہ کیا جس پر میں نے اسے مار ڈالا“، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے دفن کرنے کا حکم صادر فرمایا، جبکہ سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کی حدیث ان شاء اللہ تعالیٰ کتاب المغازی میں ابن ابی الحقیق کے قتل کے واقعے میں آئے گی۔