المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النصيحة للإمام باب: امام (یعنی حکمران) کی خیر خواہی اور مخلصانہ نصیحت کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الدِّينُ النَّصِيحَةُ . قَالُوا : لِمَنْ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِكِتَابِ اللهِ وَلِنَبِيِّهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ .
2038 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بِهَذَا .
هَذَا الْإِسْنَادُ حَسَنٌ ، إِلَّا أَنَّهُ مَعْلُولٌ ، وَالْمَحْفُوظُ مَا رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَحَدِيثُ تَمِيمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ .سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دین سراسر خیر خواہی کا نام ہے۔“ صحابہ کرام نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺ! کس کے لیے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی کتاب کے لیے، اس کے نبی ﷺ کے لیے اور مسلمانوں کے ائمہ (سربراہان و مقتداؤں) کے لیے۔“ یہ اسناد حسن درجے کی ہے مگر اس میں علمی اعتبار سے علت موجود ہے، جبکہ اس باب میں محفوظ روایت وہ ہے جسے ابن عیینہ نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے قعقاع بن حکیم سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے عطا بن یزید سے اور انہوں نے سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے، اور سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی مروی ہے۔