المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ قتل النساء والولدان والشيوخ والوصفاء والعرفاء باب: عورتوں، بچوں، بوڑھوں، خادموں اور نقیبوں کو قتل کرنے کی ممانعت سے متعلق باب۔
حدیث نمبر: 2037
وَبِهِ إِلَى أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَالَ : مَنْ قَتَلَ هَذِهِ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ أَرْدَفْتُهَا خَلْفِي فَأَرَادَتْ قَتْلِي فَدَفَيْتُهَا ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَفْنِهَا .
( 89 ) وَحَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي قِصَّةِ قَتْلِ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ مِنَ الْمَغَازِيترجمہ
سیدنا عبد الرحمن بن ابی عمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر غزوۂ خیبر کے دن ایک مقتولہ عورت پر ہوا تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اسے کس نے قتل کیا ہے؟“ ایک شخص نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے؛ میں نے اسے اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا تھا تو اس نے مجھے قتل کرنے کا ارادہ کیا جس پر میں نے اسے مار ڈالا“، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے دفن کرنے کا حکم صادر فرمایا، جبکہ سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کی حدیث ان شاء اللہ تعالیٰ کتاب المغازی میں ابن ابی الحقیق کے قتل کے واقعے میں آئے گی۔