المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ قتل النساء والولدان والشيوخ والوصفاء والعرفاء باب: عورتوں، بچوں، بوڑھوں، خادموں اور نقیبوں کو قتل کرنے کی ممانعت سے متعلق باب۔
حدیث نمبر: 2036
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسْرَعَ النَّاسُ فِي قَتْلِ الْوِلْدَانِ يَوْمَ خَيْبَرَ ، فَغَضِبَ وَقَالَ : نَهَيْتُكُمْ عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَالْكَبِيرِ . فَقَالَ رَجُلٌ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ ، وَمَا عَلَيْنَا مِنْ قَتْلِ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ ؟ قَالَ : وَمَا تَدْرُونَ مَا كَانُوا عَامِلِينَ ؟ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ خیبر کے دن لوگوں نے بچوں کے قتل میں بڑی عجلت دکھائی، جس پر رسول اللہ ﷺ غضبناک ہوئے اور ارشاد فرمایا: ”میں نے تمہیں بچوں اور بوڑھوں کو قتل کرنے سے منع کیا تھا“، تو ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، مشرکین کے بچوں کو قتل کرنے میں ہمارا کیا حرج ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اور تمہیں کیا خبر کہ وہ (بڑے ہو کر) کیا عمل کرنے والے تھے؟“۔