المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ قتل النساء والولدان والشيوخ والوصفاء والعرفاء باب: عورتوں، بچوں، بوڑھوں، خادموں اور نقیبوں کو قتل کرنے کی ممانعت سے متعلق باب۔
حدیث نمبر: 2035
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ وَاسْتَعْمَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ ، فَرَأَى امْرَأَةً مَقْتُولَةً قَالَ : مَنْ قَتَلَ هَذِهِ ؟ قَالُوا : قَتَلَهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ : الْحَقْ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَقُلْ لَهُ : لَا تَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلَا صَبِيًّا وَلَا عَسِيفًا . وَالْعَسِيفُ : الْأَجِيرُ .ترجمہ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک غزوے کے لیے تشریف لے گئے اور آپ ﷺ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اپنے ہراول دستے کا امیر مقرر فرمایا، اس دوران آپ ﷺ نے ایک مقتولہ عورت کو دیکھا تو دریافت فرمایا کہ ”اسے کس نے قتل کیا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا کہ اسے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے قتل کیا ہے، تب رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا کہ ”سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے جا کر ملو اور ان سے کہو کہ کسی عورت، بچے یا عسیف کو ہرگز قتل نہ کریں“، اور عسیف سے مراد ”اجرت پر کام کرنے والا مزدور“ ہے۔