المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ حفظ أهل الذمة وَبَيَانِ مَا يقتضي بِهِ عهدهم باب: اہلِ ذمہ کی حفاظت و نگہبانی اور ان کے ساتھ کیے گئے عہد و پیمان کے مقتضیات و تقاضوں کی وضاحت کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ نَخَسَ بِامْرَأَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حِمَارَهَا ، ثُمَّ جَابَذَهَا فَحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَضَرَبَهُ ، فَأَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَدَعَا بِالْمَرْأَةِ فَسَأَلَهَا فَصَدَّقَتْ عَوْفًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَأَمَرَ بِهِ فَصُلِبَ ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَيُّهَا النَّاسُ ، اتَّقُوا اللهَ فِي ذِمَّةِ مُحَمَّدٍ فَلَا تَظْلِمُوهُمْ ، مَنْ فَعَلَ مِنْهُمْ مِثْلَ هَذَا فَلَا ذِمَّةَ لَهُ .سیدنا سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک ذمی شخص نے ایک مسلمان خاتون کے گدھے کو کونچا (چبھو کر بھگانے کی کوشش کی) اور پھر اس کے ساتھ دست درازی (کھینچا تانی) کی، تو سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ اس کے اور اس خاتون کے درمیان رکاوٹ بن گئے اور اسے ضرب لگائی، پھر وہ شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس واقعے کا ذکر کیا، جس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو طلب فرما کر اس سے سوال کیا تو اس نے سیدنا عوف رضی اللہ عنہ کے بیان کی تصدیق کر دی، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے متعلق حکم جاری فرمایا اور اسے سولی دے دی گئی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (لوگوں کو مخاطب کر کے) ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! محمد ﷺ کے ذمے (عہد و پیمان) میں رہنے والوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو اور ان پر ظلم نہ کرو، البتہ ان میں سے جو کوئی اس طرح کی قبیح حرکت کرے گا تو اس کا عہد و ذمہ ختم ہو جائے گا۔“