کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: عورتوں کے ساتھ حسنِ معاشرت اور ان کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے آداب و احکام کا بیان۔
❮
❯
إِسْحَاقُ : قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ : أَحَدَّثَكُمْ أَبُو طَلْقِ بْنُ حَنْظَلَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ثُرَيْبٍ الثَّعْلَبِيِّ قَالَ : أَكْرَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَرِيرٍ فِي الْحَجِّ ، فَقَدِمَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْيَاءَ ، فَكَانَ مِمَّا سَاءَلَهُ قَالَ : كَيْفَ وَجَدْتَ نِسَاءَكَ ؟ قَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُقَبِّلَ امْرَأَةً مِنْهُنَّ فِي غَيْرِ يَوْمِهَا إِلَّا اتَّهَمَتْنِي ، وَمَا خَرَجْتُ لِحَاجَةٍ إِلَّا قَالَتْ : كُنْتَ عِنْدَ فُلَانَةَ ، كُنْتَ عِنْدَ فُلَانَةَ . فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنَّ كَثِيرًا مِنْهُنَّ لَا يُؤْمِنُ بِاللهِ ، وَلَا يُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ ، وَلَعَلَّ أَحَدًا مَا يَكُونُ فِي حَاجَةِ بَعْضِهِنَّ ، أَوْ يَأْتِي السُّوقَ فَيَشْتَرِي الْحَاجَةَ لِبَعْضِهِنَّ فَتَتَّهِمُهُ .
فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ شَكَا إِلَى اللهِ تَعَالَى ذَرَبًا فِي خُلُقِ سَارَةَ ، فَقَالَ لَهُ : " إِنَّ الْمَرْأَةَ كَالضِّلْعِ ; إِنْ تَرَكْتَهَا اعْوَجَّتْ ، وَإِنْ قَوَّمْتَهَا كُسِرَتْ ; فَاسْتَمْتِعْ بِهَا عَلَى مَا فِيهَا " . فَضَرَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنَ كَتِفَيِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَقَالَ : لَقَدْ جَعَلَ اللهُ فِي قَلْبِكَ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ مِنَ الْعِلْمِ غَيْرَ قَلِيلٍ ؟ . فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ ، وَقَالَ : نَعَمْ .
1601 \ 2 - وَقَالَ إِسْحَاقُ أَيْضًا : أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، ثَنَا أَبُو طَلْقٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي حَنْظَلَةُ بْنُ نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنِي ثُرَيْبٌ أَوِ ابْنُ ثُرَيْبٍ ، قَالَ : أَكْرَيْتُ فِي الْحَجِّ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَاعِدٌ ، وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي نَاسٍ ، فَقَالَ عُمَرُ لِجَرِيرٍ ... ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً ، وَقَالَ : دَرَأَ فِي خُلُقِ سَارَةَ .
1601 \ 3 - أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الرُّكَيْنِ ، وَأَبِي طَلْقٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ ، فَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا.
ترجمہ
اوس بن ثریب ثعلبی سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ: میں نے حج کے موقع پر عبد اللہ بن جریر (یا جریر بن عبد اللہ) کو سواری کرائے پر دی، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے مختلف امور کے بارے میں دریافت فرمایا، ان سے پوچھے گئے سوالات میں ایک یہ بھی تھا کہ: ”تم نے اپنی بیویوں کو کیسا پایا؟“، انہوں نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! حال یہ ہے کہ اگر میں ان میں سے کسی ایک کو بھی اس کی باری والے دن کے علاوہ بوسہ دوں تو وہ مجھ پر تہمند ہو جاتی ہے، اور میں کسی ضرورت سے باہر نکلوں تو وہ یہی کہتی ہے: "تم فلاں کے پاس تھے، تم فلاں کے پاس تھے!"، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک ان میں سے اکثر اللہ پر (کامل) ایمان نہیں رکھتیں اور نہ مومنین پر بھروسا کرتی ہیں، ہو سکتا ہے کہ انسان اپنی کسی ایک بیوی کی ضرورت سے گیا ہو یا بازار جا کر اس کے لیے کوئی چیز خرید رہا ہو اور وہ اس پر تہمت لگانے لگے“، اس پر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ کے علم میں نہیں کہ اللہ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں سیدہ سارہ کے مزاج کی تلخی (اور تند خوئی) کی شکایت کی تھی، تو اللہ تعالی نے ان سے وحی کے ذریعے فرمایا تھا: ”بے شک عورت پسلی کی مانند ہے؛ اگر تم اسے اس کے حال پر چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی، اور اگر اسے (زبردستی) سیدھا کرنے لگو گے تو توڑ بیٹھو گے؛ لہذا جو کچھ اس میں (ٹیڑھا پن) ہے اسی کے ساتھ اس سے نفع اٹھاتے رہو“، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے دونوں شانوں کے درمیان (تھپتھپاتے ہوئے) مارا اور فرمایا: ”اے ابن مسعود! اللہ نے آپ کے دل میں وافر مقدار میں علم بھر دیا ہے!“، (راوی کہتے ہیں:) ابو اسامہ نے اس روایت کا اقرار کیا اور فرمایا: ہاں
(دوسری سند:) اور اسی طرح ثریب (یا ابن ثریب) سے روایت ہے کہ انہوں نے مسجد میں سیدنا عمر بن الخطاب اور سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کے درمیان یہی گفتگو نقل کی
(تیسری سند:) اور سفیان بن عیینہ کی روایت میں بھی اسی کے مثل منقول ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1601
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 1601 / 3، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 13272، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 19618، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 9684»
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فِيهِ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ النِّسَاءَ عِنْدَكُمْ عَوَانٍ ، أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللهِ تَعَالَى ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ حَقٌّ ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ حَقٌّ . وَمِنْ حَقِّكُمْ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ مَنْ تَكْرَهُونَ ، وَلَا يَعْصِينَكُمْ فِي مَعْرُوفٍ . فَإِذَا فَعَلْنَ فَلَهُنَّ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ، وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فَاضْرِبُوا ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ ... " الْحَدِيثَ .
[.
1602 \ 2 - وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ بِهَذَا .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک طویل حدیث کے دوران ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! بے شک عورتیں تمہارے پاس تمہارے زیرِ دست (اور قیدیوں کی مانند) ہیں، تم نے انہیں اللہ تعالیٰ کی امانت کے ساتھ اپنی زوجیت میں لیا ہے اور اللہ عزوجل کے کلمے کے ذریعے ان کے ساتھ ازدواجی تعلق کو اپنے لیے حلال کیا ہے؛ تمہارے ان پر حقوق واجب ہیں اور ان کے تم پر حقوق لازم ہیں۔ تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر کسی ایسے شخص کو قدم نہ رکھنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو اور نہ ہی وہ نیکی و بھلائی کے کاموں میں تمہاری نافرمانی کریں۔ پس جب وہ ان امور کی پابندی کریں تو دستور کے مطابق ان کا نان و نفقہ اور لباس فراہم کرنا تمہارے ذمے واجب ہے، اور اگر تمہیں انہیں (تادیباً) سزا دینے کی ضرورت پیش آئے تو ایسی مار مارو جو نہ تو شدید تکلیف دہ ہو اور نہ ہی جسم پر زخم و نشان ڈالے...“
اس حدیث کو امام عبد بن حمید نے بھی امام ابو بکر بن ابی شیبہ کے واسطے سے انہی مذکورہ بالا الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1602
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 1742، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 66، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 187، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 3295، وأخرجه سنن النسائي برقم: 4136 / 10، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 3577، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 1945، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 3058، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 9715، وأخرجه مسند أحمد برقم: 5682، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 5586، وأخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 858، وأخرجه مسند البزار برقم: 6135، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 1134 / 3، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 37122، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 6158، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 1460، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 13121، وأخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 1102، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 9208»
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا الْعَقَدِيُّ ، ثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ : قَالَتْ صَفِيَّةُ : انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَكْرَهَ إِلَيَّ مِنْهُ ، فَجَعَلَ يَقُولُ : " إِنَّ قَوْمَكِ صَنَعُوا كَذَا وَكَذَا ، وَصَنَعُوا كَذَا وَكَذَا " ، فَمَا قُمْتُ مِنْ مَقْعَدِي ذَلِكَ ، حَتَّى مَا كَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُ .
* قُلْتُ : هُوَ مُرْسَلٌ .
ترجمہ
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی تو اس وقت تمام لوگوں میں آپ ﷺ سے بڑھ کر میرے نزدیک کوئی ناپسندیدہ شخصیت نہ تھی، پھر آپ ﷺ مجھ سے (سابقہ رنجشوں کی حقیقت واضح کرتے ہوئے) مسلسل فرمانے لگے: ”بے شک تمہاری قوم نے ایسا ایسا کیا تھا اور انہوں نے یوں یوں کیا تھا“، چنانچہ میں اپنی اس نشست سے ابھی اٹھی بھی نہ تھی کہ آپ ﷺ میرے نزدیک کائنات میں سب سے زیادہ محبوب بن گئے۔
میں کہتا ہوں کہ یہ روایت مرسل ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1603
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هُوَ مُرْسَلٌ . »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 7114، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 4121»
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَمَنْ نَكَحَ امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا ، أَوْ رَجُلًا ، أَوْ صَبِيًّا - يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ أَنْتَنُ مِنَ الْجِيفَةِ " ... الْحَدِيثَ .
وَسَيَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى بَقِيَّتُهُ فِي الْحَدِيثِ ، وَفِيهِ : " وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ آذَتْ زَوْجَهَا لَمْ تُقْبَلْ صَلَاتُهَا وَلَا حَسَنَةٌ مِنْ عَمَلِهَا حَتَّى تُعِينَهُ ، وَتُرْضِيَهُ ، وَلَوْ صَامَتِ الدَّهْرَ ، وَقَامَتْ ، وَأَعْتَقَتِ الرِّقَابَ ، وَحَمَلَتْ عَلَى الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى - لَكَانَتْ أَوَّلَ مَنْ يَرِدُ النَّارَ ، إِذَا لَمْ تُرْضِهِ وَتُعِنْهُ " .
وَقَالَ : " وَعَلَى الرَّجُلِ مِثْلُ ذَلِكَ مِنَ الْعَذَابِ وَالْوِزْرِ إِذَا كَانَ لَهَا مُؤْذِيًا ظَالِمًا ، وَمَنْ أَضَرَّ بِامْرَأَةٍ حَتَّى تَفْتَدِيَ مِنْهُ لَمْ يَرْضَ اللهُ تَعَالَى لَهُ بِعُقُوبَةٍ دُونَ النَّارِ ؛ لِأَنَّ اللهُ تَعَالَى يَغْضَبُ لِلْمَرْأَةِ كَمَا يَغْضَبُ لِلْيَتِيمِ .
وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا لَمْ تَزَلْ فِي لَعْنَةِ اللهِ تَعَالَى وَلَعْنَةِ الْمَلَائِكَةِ وَرُسُلِهِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ . فَإِذَا نَزَلَ بِهَا مَلَكُ الْمَوْتِ قَالَ لَهَا : ادْخُلِي النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ . أَلَا وَإِنَّ اللهَ وَرَسُولَهُ بَرِيئَانِ ، فَمَنْ أَضَرَّ بِامْرَأَةٍ حَتَّى تَخْتَلِعَ مِنْهُ .
وَمَنْ صَبَرَ عَلَى سُوءِ خُلُقِ امْرَأَتِهِ ، وَاحْتَسَبَ الْأَجْرَ عَلَى اللهِ تَعَالَى - أَعْطَاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الثَّوَابِ مِثْلَ مَا أَعْطَى أَيُّوبَ عَلَى بَلَائِهِ ، وَكَانَ عَلَيْهَا مِنَ الْوِزْرِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ مِثْلُ رَمْلِ عَالِجٍ ؛ فَإِنْ مَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تُعِينَهُ وَتُرْضِيَهُ حُشِرَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْكُوسَةً مَعَ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ .
وَمَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ ، فَلَمْ تُوَافِقْهُ ، وَلَمْ تَصْبِرْ عَلَى مَا رَزَقَهُ اللهُ تَعَالَى ، وَشَقَّتْ عَلَيْهِ ، وَحَمَّلَتْهُ مَا لَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ - لَمْ تُقْبَلْ لَهَا حَسَنَةٌ ، فَإِنْ مَاتَتْ عَلَى ذَلِكَ حُشِرَتْ مَعَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ".
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جس نے کسی عورت کے ساتھ غیر فطری راستے سے ہم بستری کی، یا کسی مرد یا لڑکے کے ساتھ (بدفعلی) کی، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ وہ مردار سے بھی زیادہ بدبودار ہوگا“
حدیث کا بقیہ حصہ آگے آئے گا جس میں یہ مذکور ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو عورت اپنے شوہر کو اذیت دے، اللہ تعالیٰ اس کی نماز اور اس کی کوئی بھی نیکی قبول نہیں فرمائے گا جب تک کہ وہ اپنے شوہر کا ہاتھ نہ بٹائے اور اسے راضی نہ کر لے، اگرچہ وہ ہمیشہ روزے رکھے، رات بھر قیام کرے، غلام آزاد کرے اور اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے سواریاں مہیا کرے؛ تب بھی اگر اس نے اپنے شوہر کو راضی نہ کیا اور اس کا ساتھ نہ دیا تو وہ جہنم میں داخل ہونے والے اولین افراد میں ہوگی“
اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مرد اپنی بیوی کو تکلیف پہنچانے والا اور اس پر ظلم کرنے والا ہو تو اس کے لیے بھی ویسا ہی عذاب اور گناہ ہے، اور جس نے کسی عورت کو اس قدر تنگ کیا کہ وہ (مالی بدلہ دے کر) اس سے خلع لینے پر مجبور ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس مرد کے لیے جہنم سے کم کسی سزا پر راضی نہ ہوگا؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ عورت کے معاملے میں ویسے ہی غضب ناک ہوتا ہے جیسے وہ یتیم کے حق میں غضب فرماتا ہے“
اور فرمایا: ”جو عورت (بغیر کسی شرعی سبب کے) اپنے شوہر سے خلع حاصل کرے تو وہ اللہ تعالیٰ، فرشتوں، اس کے رسولوں اور تمام انسانوں کی لعنت میں رہتی ہے، یہاں تک کہ جب اس کے پاس ملک الموت آتا ہے تو وہ اس سے کہتا ہے: آگ میں جانے والوں کے ساتھ دوزخ میں داخل ہو جا؛ آگاہ رہو! جو شخص کسی عورت کو اس قدر ستائے کہ وہ اس سے خلع لے لے تو اللہ اور اس کا رسول اس (مرد) سے بری الذمہ ہیں“
مزید ارشاد فرمایا: ”جس نے اپنی بیوی کی بدخلقی پر اللہ سے اجر کی امید رکھتے ہوئے صبر کیا، تو اللہ عزوجل اسے ویسا ہی ثواب عطا فرمائے گا جیسا سیدنا ایوب علیہ السلام کو ان کی آزمائش پر عطا فرمایا تھا، جبکہ اس عورت پر ہر دن اور رات 'عالج' کے ریگستان کی ریت کے ذرات کے برابر گناہ ہوگا؛ چنانچہ اگر وہ شوہر کی مدد کرنے اور اسے راضی کرنے سے پہلے مر گئی تو قیامت کے دن اسے اوندھے منہ منافقین کے ساتھ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں اٹھایا جائے گا“
اور فرمایا: ”جس کی ایسی بیوی ہو جو اس کے موافق نہ چلے، اللہ کے دیے ہوئے رزق پر صبر نہ کرے بلکہ اس پر تنگی کرے اور اسے اس کی طاقت سے زیادہ کاموں کا مکلف بنائے، تو اس کی کوئی نیکی قبول نہیں کی جائے گی، اور اگر وہ اسی حالت میں مر گئی تو اسے ان لوگوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا جن پر اللہ کا غضب ہوا“۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1604
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :لم يذكر حكمًا صريحًا على الإسناد. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 245»