المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ عشرة النساء باب: عورتوں کے ساتھ حسنِ معاشرت اور ان کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے آداب و احکام کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فِيهِ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ النِّسَاءَ عِنْدَكُمْ عَوَانٍ ، أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللهِ تَعَالَى ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ حَقٌّ ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ حَقٌّ . وَمِنْ حَقِّكُمْ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ مَنْ تَكْرَهُونَ ، وَلَا يَعْصِينَكُمْ فِي مَعْرُوفٍ . فَإِذَا فَعَلْنَ فَلَهُنَّ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ، وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فَاضْرِبُوا ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ ... " الْحَدِيثَ .
[.
1602 \ 2 - وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ بِهَذَا .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک طویل حدیث کے دوران ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! بے شک عورتیں تمہارے پاس تمہارے زیرِ دست (اور قیدیوں کی مانند) ہیں، تم نے انہیں اللہ تعالیٰ کی امانت کے ساتھ اپنی زوجیت میں لیا ہے اور اللہ عزوجل کے کلمے کے ذریعے ان کے ساتھ ازدواجی تعلق کو اپنے لیے حلال کیا ہے؛ تمہارے ان پر حقوق واجب ہیں اور ان کے تم پر حقوق لازم ہیں۔ تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر کسی ایسے شخص کو قدم نہ رکھنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو اور نہ ہی وہ نیکی و بھلائی کے کاموں میں تمہاری نافرمانی کریں۔ پس جب وہ ان امور کی پابندی کریں تو دستور کے مطابق ان کا نان و نفقہ اور لباس فراہم کرنا تمہارے ذمے واجب ہے، اور اگر تمہیں انہیں (تادیباً) سزا دینے کی ضرورت پیش آئے تو ایسی مار مارو جو نہ تو شدید تکلیف دہ ہو اور نہ ہی جسم پر زخم و نشان ڈالے...“
اس حدیث کو امام عبد بن حمید نے بھی امام ابو بکر بن ابی شیبہ کے واسطے سے انہی مذکورہ بالا الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔