المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ عشرة النساء باب: عورتوں کے ساتھ حسنِ معاشرت اور ان کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے آداب و احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 1603
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا الْعَقَدِيُّ ، ثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ : قَالَتْ صَفِيَّةُ : انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَكْرَهَ إِلَيَّ مِنْهُ ، فَجَعَلَ يَقُولُ : " إِنَّ قَوْمَكِ صَنَعُوا كَذَا وَكَذَا ، وَصَنَعُوا كَذَا وَكَذَا " ، فَمَا قُمْتُ مِنْ مَقْعَدِي ذَلِكَ ، حَتَّى مَا كَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُ .
* قُلْتُ : هُوَ مُرْسَلٌ .ترجمہ
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی تو اس وقت تمام لوگوں میں آپ ﷺ سے بڑھ کر میرے نزدیک کوئی ناپسندیدہ شخصیت نہ تھی، پھر آپ ﷺ مجھ سے (سابقہ رنجشوں کی حقیقت واضح کرتے ہوئے) مسلسل فرمانے لگے: ”بے شک تمہاری قوم نے ایسا ایسا کیا تھا اور انہوں نے یوں یوں کیا تھا“، چنانچہ میں اپنی اس نشست سے ابھی اٹھی بھی نہ تھی کہ آپ ﷺ میرے نزدیک کائنات میں سب سے زیادہ محبوب بن گئے۔
میں کہتا ہوں کہ یہ روایت مرسل ہے۔