کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: عورتوں کی تدبیر اور حالتِ غیرت میں ان سے صادر ہونے والی باتوں سے درگزر کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ ، ثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، وَأَخْرَجَ مَعَهُ نِسَاءَهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُنَّ .
قَالَتْ : وَكَانَ مَتَاعِي فِيهِ خِفَّةٌ ، فَكَانَ عَلَى جَمَلٍ نَاجٍ . وَكَانَ مَتَاعُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِيهِ ثِقَلٌ ، وَكَانَ عَلَى جَمَلٍ ثَقَالٍ بَطِيءٍ يَنْتَظِرُ بِالرَّكْبِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَوِّلُوا مَتَاعَ عَائِشَةَ عَلَى جَمَلِ صَفِيَّةَ ، وَحَوِّلُوا مَتَاعَ صَفِيَّةَ عَلَى جَمَلِ عَائِشَةَ ، حَتَّى يَمْضِيَ الرَّكْبُ " .
فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : قُلْتُ : يَا لَمَعَاذَ اللهِ ! غَلَبَتْ هَذِهِ الْيَهُودِيَّةُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أُمَّ عَبْدِ اللهِ ، إِنَّ مَتَاعَكِ كَانَ فِيهِ خَفٌّ ، وَكَانَ مَتَاعُ صَفِيَّةَ فِيهِ ثِقَلٌ ، فَأَبْطَأَ الرَّكْبُ ، فَحَوَّلْنَا مَتَاعَهَا عَلَى بَعِيرِكِ ، وَحَوَّلْنَا مَتَاعَكِ عَلَى بَعِيرِهَا " !
قَالَتْ : فَقُلْتُ : أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ ؟ قَالَتْ : فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " أَفِيَّ شَكٌّ أَنْتِ يَا أُمَّ عَبْدِ اللهِ ؟ " قَالَتْ : قُلْتُ : أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ ؟ فَهَلَّا عَدَلْتَ ؟
وَسَمِعَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَكَانَ فِيهِ غَرْبٌ ، أَيْ حِدَّةٌ ، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَلَطَمَ وَجْهِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْلًا يَا أَبَا بَكْرٍ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَمَا سَمِعْتَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْغَيْرَى لَا تَنْظُرُ أَسْفَلَ الْوَادِي مِنْ أَعْلَاهُ " .
قَالَتْ : وَكَانَ مَتَاعِي فِيهِ خِفَّةٌ ، فَكَانَ عَلَى جَمَلٍ نَاجٍ . وَكَانَ مَتَاعُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِيهِ ثِقَلٌ ، وَكَانَ عَلَى جَمَلٍ ثَقَالٍ بَطِيءٍ يَنْتَظِرُ بِالرَّكْبِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَوِّلُوا مَتَاعَ عَائِشَةَ عَلَى جَمَلِ صَفِيَّةَ ، وَحَوِّلُوا مَتَاعَ صَفِيَّةَ عَلَى جَمَلِ عَائِشَةَ ، حَتَّى يَمْضِيَ الرَّكْبُ " .
فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : قُلْتُ : يَا لَمَعَاذَ اللهِ ! غَلَبَتْ هَذِهِ الْيَهُودِيَّةُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أُمَّ عَبْدِ اللهِ ، إِنَّ مَتَاعَكِ كَانَ فِيهِ خَفٌّ ، وَكَانَ مَتَاعُ صَفِيَّةَ فِيهِ ثِقَلٌ ، فَأَبْطَأَ الرَّكْبُ ، فَحَوَّلْنَا مَتَاعَهَا عَلَى بَعِيرِكِ ، وَحَوَّلْنَا مَتَاعَكِ عَلَى بَعِيرِهَا " !
قَالَتْ : فَقُلْتُ : أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ ؟ قَالَتْ : فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " أَفِيَّ شَكٌّ أَنْتِ يَا أُمَّ عَبْدِ اللهِ ؟ " قَالَتْ : قُلْتُ : أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ ؟ فَهَلَّا عَدَلْتَ ؟
وَسَمِعَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَكَانَ فِيهِ غَرْبٌ ، أَيْ حِدَّةٌ ، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَلَطَمَ وَجْهِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْلًا يَا أَبَا بَكْرٍ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَمَا سَمِعْتَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْغَيْرَى لَا تَنْظُرُ أَسْفَلَ الْوَادِي مِنْ أَعْلَاهُ " .
ترجمہ
سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کے مبارک سفر میں نکلی اور آپ ﷺ اپنی دیگر ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو بھی ہمراہ لے کر چلے، میرا سامان ہلکا تھا اور میرا اونٹ تیز رفتار تھا جبکہ سیدتنا صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کا سامان وزنی تھا اور ان کا اونٹ سست رفتار تھا جس کی وجہ سے پورا قافلہ ان کے انتظار میں رک جاتا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے حکم ارشاد فرمایا کہ ”عائشہ کا سامان صفیہ کے اونٹ پر لاد دو اور صفیہ کا سامان عائشہ کے اونٹ پر منتقل کر دو تاکہ قافلہ سہولت سے روانہ ہو سکے۔“ سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب میں نے یہ صورتحال دیکھی تو پکار اٹھی: «يَا لَمَعَاذَ اللهِ» (اے اللہ کی پناہ!) اس یہودی زادی نے رسول اللہ ﷺ پر غلبہ پا لیا ہے! اس پر رسول اللہ ﷺ نے شفقت سے وضاحت فرمائی کہ ”اے ام عبداللہ! تمہارا سامان ہلکا تھا اور صفیہ کا بوجھ زیادہ تھا جس سے قافلے کی رفتار سست ہو گئی تھی، اس لیے ہم نے ان کا سامان تمہارے اونٹ پر اور تمہارا ان کے اونٹ پر منتقل کر دیا ہے تاکہ سفر کی روانی متاثر نہ ہو۔“ میں نے (غیرتِ زوجیت کے زیرِ اثر) کہا: کیا آپ یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں؟ نبی کریم ﷺ یہ سن کر مسکرا دیے اور فرمایا: ”اے ام عبداللہ! کیا تمہیں میرے بارے میں کوئی شک ہے؟“ میں نے دوبارہ کہا: کیا آپ یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں؟ تو پھر آپ نے عدل کیوں نہیں فرمایا؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب یہ گفتگو سنی اور ان کی طبیعت میں جلال و تیزی تھی، تو وہ آگے بڑھے اور میرے چہرے پر چپت لگائی، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوبکر! رک جائیے اور تحمل سے کام لیں۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے سنا نہیں کہ یہ کیا کہہ رہی ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے کمالِ دانش سے ارشاد فرمایا: ”بے شک غیرت میں مبتلا عورت کو وادی کی بلندی اور پستی میں تمیز نہیں رہتی (یعنی وہ ہوش کھو بیٹھتی ہے اور اسے اندازہ نہیں ہوتا کہ کیا کہہ رہی ہے)۔“
علمائے حدیث اس واقعے سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ انتہائی غیرت کی حالت میں عورت سے سرزد ہونے والے ایسے کلمات پر مؤاخذہ نہیں کیا جاتا جو عام حالات میں سخت ہوں، کیونکہ اس وقت اس کے جذبات عقل پر غالب آ جاتے ہیں اور نبی کریم ﷺ کا درگزر فرمانا آپ ﷺ کے بلند اخلاق اور ازواج کے نفسیاتی پہلوؤں کی رعایت کی بہترین مثال ہے۔
علمائے حدیث اس واقعے سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ انتہائی غیرت کی حالت میں عورت سے سرزد ہونے والے ایسے کلمات پر مؤاخذہ نہیں کیا جاتا جو عام حالات میں سخت ہوں، کیونکہ اس وقت اس کے جذبات عقل پر غالب آ جاتے ہیں اور نبی کریم ﷺ کا درگزر فرمانا آپ ﷺ کے بلند اخلاق اور ازواج کے نفسیاتی پہلوؤں کی رعایت کی بہترین مثال ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْمُسْجِعُ بْنُ مُصْعَبٍ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَتْنِي رَبِيعَةُ ، حَدَّثَتْنِي أُمَيَّةُ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ أَبِي عَسِيبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ امْرَأَةً مِنْ جُرَشَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ ، فَنَادَتْ : يَا عَائِشَةُ ، أَعِينِينِي بِدَعْوَةٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تُسْكِنُنِي أَوْ تُطَيِّبُنِي بِهَا ! وَأَنَّهُ قَالَ لَهَا : " ضَعِي يَدَكِ الْيُمْنَى عَلَى فُؤَادِكِ فَامْسَحِيهِ ، وَقُولِي : بِسْمِ اللهِ ، اللَّهُمَّ دَاوِنِي بِدَوَائِكَ ، وَاشْفِنِي بِشِفَائِكَ ، وَأَغْنِنِي بِغِنَاكَ وَبِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ ، وَاحْدِرْ عَنِّي أَذَاكَ " .
قَالَتْ رَبِيعَةُ : فَدَعَوْتُ بِهِ ، فَوَجَدْتُهُ جَيِّدًا . قَالَ : وَأَظُنُّ رَبِيعَةَ قَالَتْ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : إِنَّ الْمَرْأَةَ كَانَتْ غَيْرَى .
قَالَتْ رَبِيعَةُ : فَدَعَوْتُ بِهِ ، فَوَجَدْتُهُ جَيِّدًا . قَالَ : وَأَظُنُّ رَبِيعَةَ قَالَتْ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : إِنَّ الْمَرْأَةَ كَانَتْ غَيْرَى .
ترجمہ
امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے کہ سیدہ میمونہ بنت ابی عسیب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جرش نامی علاقے کی ایک خاتون اونٹ پر سوار ہو کر نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی اور پکار کر عرض کیا: اے عائشہ (رضی اللہ عنہا)! اللہ کے رسول ﷺ سے مجھے کوئی ایسی دعا لے دیجیے جو مجھے سکون بخش دے یا جس کے ذریعے وہ مجھے اطمینان عطا فرما دیں! تو آپ ﷺ نے اس خاتون سے ارشاد فرمایا: ”اپنا دایاں ہاتھ اپنے دل پر رکھ کر اسے ملو اور یہ کہو: «بِسْمِ اللهِ ، اللَّهُمَّ دَاوِنِي بِدَوَائِكَ ، وَاشْفِنِي بِشِفَائِكَ ، وَأَغْنِنِي بِغِنَاكَ وَبِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ ، وَاحْدِرْ عَنِّي أَذَاكَ» (اللہ کے نام سے؛ اے اللہ! اپنی خاص دوا سے میرا علاج فرما، اپنی شفا سے مجھے تندرستی عطا کر، اور اپنی تونگری اور اپنے فضل کے ذریعے مجھے اپنے سوا ہر کسی سے بے نیاز کر دے، اور مجھ سے اس تکلیف کو دور فرما دے)۔“
ربیعہ کہتی ہیں کہ میں نے خود یہ دعا مانگی تو اسے نہایت زود اثر اور بہترین پایا؛ راوی کا بیان ہے کہ میرا خیال ہے ربیعہ نے اس حدیث میں یہ بھی ذکر کیا تھا کہ وہ خاتون غیرت و حسد کی کیفیت کی وجہ سے سخت اضطراب میں مبتلا تھی۔
ربیعہ کہتی ہیں کہ میں نے خود یہ دعا مانگی تو اسے نہایت زود اثر اور بہترین پایا؛ راوی کا بیان ہے کہ میرا خیال ہے ربیعہ نے اس حدیث میں یہ بھی ذکر کیا تھا کہ وہ خاتون غیرت و حسد کی کیفیت کی وجہ سے سخت اضطراب میں مبتلا تھی۔