❮
❯
حدیث نمبر: 1604
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَمَنْ نَكَحَ امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا ، أَوْ رَجُلًا ، أَوْ صَبِيًّا - يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ أَنْتَنُ مِنَ الْجِيفَةِ " ... الْحَدِيثَ .
وَسَيَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى بَقِيَّتُهُ فِي الْحَدِيثِ ، وَفِيهِ : " وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ آذَتْ زَوْجَهَا لَمْ تُقْبَلْ صَلَاتُهَا وَلَا حَسَنَةٌ مِنْ عَمَلِهَا حَتَّى تُعِينَهُ ، وَتُرْضِيَهُ ، وَلَوْ صَامَتِ الدَّهْرَ ، وَقَامَتْ ، وَأَعْتَقَتِ الرِّقَابَ ، وَحَمَلَتْ عَلَى الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى - لَكَانَتْ أَوَّلَ مَنْ يَرِدُ النَّارَ ، إِذَا لَمْ تُرْضِهِ وَتُعِنْهُ " .
وَقَالَ : " وَعَلَى الرَّجُلِ مِثْلُ ذَلِكَ مِنَ الْعَذَابِ وَالْوِزْرِ إِذَا كَانَ لَهَا مُؤْذِيًا ظَالِمًا ، وَمَنْ أَضَرَّ بِامْرَأَةٍ حَتَّى تَفْتَدِيَ مِنْهُ لَمْ يَرْضَ اللهُ تَعَالَى لَهُ بِعُقُوبَةٍ دُونَ النَّارِ ؛ لِأَنَّ اللهُ تَعَالَى يَغْضَبُ لِلْمَرْأَةِ كَمَا يَغْضَبُ لِلْيَتِيمِ .
وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا لَمْ تَزَلْ فِي لَعْنَةِ اللهِ تَعَالَى وَلَعْنَةِ الْمَلَائِكَةِ وَرُسُلِهِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ . فَإِذَا نَزَلَ بِهَا مَلَكُ الْمَوْتِ قَالَ لَهَا : ادْخُلِي النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ . أَلَا وَإِنَّ اللهَ وَرَسُولَهُ بَرِيئَانِ ، فَمَنْ أَضَرَّ بِامْرَأَةٍ حَتَّى تَخْتَلِعَ مِنْهُ .
وَمَنْ صَبَرَ عَلَى سُوءِ خُلُقِ امْرَأَتِهِ ، وَاحْتَسَبَ الْأَجْرَ عَلَى اللهِ تَعَالَى - أَعْطَاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الثَّوَابِ مِثْلَ مَا أَعْطَى أَيُّوبَ عَلَى بَلَائِهِ ، وَكَانَ عَلَيْهَا مِنَ الْوِزْرِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ مِثْلُ رَمْلِ عَالِجٍ ؛ فَإِنْ مَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تُعِينَهُ وَتُرْضِيَهُ حُشِرَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْكُوسَةً مَعَ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ .
وَمَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ ، فَلَمْ تُوَافِقْهُ ، وَلَمْ تَصْبِرْ عَلَى مَا رَزَقَهُ اللهُ تَعَالَى ، وَشَقَّتْ عَلَيْهِ ، وَحَمَّلَتْهُ مَا لَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ - لَمْ تُقْبَلْ لَهَا حَسَنَةٌ ، فَإِنْ مَاتَتْ عَلَى ذَلِكَ حُشِرَتْ مَعَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ".
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جس نے کسی عورت کے ساتھ غیر فطری راستے سے ہم بستری کی، یا کسی مرد یا لڑکے کے ساتھ (بدفعلی) کی، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ وہ مردار سے بھی زیادہ بدبودار ہوگا“
حدیث کا بقیہ حصہ آگے آئے گا جس میں یہ مذکور ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو عورت اپنے شوہر کو اذیت دے، اللہ تعالیٰ اس کی نماز اور اس کی کوئی بھی نیکی قبول نہیں فرمائے گا جب تک کہ وہ اپنے شوہر کا ہاتھ نہ بٹائے اور اسے راضی نہ کر لے، اگرچہ وہ ہمیشہ روزے رکھے، رات بھر قیام کرے، غلام آزاد کرے اور اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے سواریاں مہیا کرے؛ تب بھی اگر اس نے اپنے شوہر کو راضی نہ کیا اور اس کا ساتھ نہ دیا تو وہ جہنم میں داخل ہونے والے اولین افراد میں ہوگی“
اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مرد اپنی بیوی کو تکلیف پہنچانے والا اور اس پر ظلم کرنے والا ہو تو اس کے لیے بھی ویسا ہی عذاب اور گناہ ہے، اور جس نے کسی عورت کو اس قدر تنگ کیا کہ وہ (مالی بدلہ دے کر) اس سے خلع لینے پر مجبور ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس مرد کے لیے جہنم سے کم کسی سزا پر راضی نہ ہوگا؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ عورت کے معاملے میں ویسے ہی غضب ناک ہوتا ہے جیسے وہ یتیم کے حق میں غضب فرماتا ہے“
اور فرمایا: ”جو عورت (بغیر کسی شرعی سبب کے) اپنے شوہر سے خلع حاصل کرے تو وہ اللہ تعالیٰ، فرشتوں، اس کے رسولوں اور تمام انسانوں کی لعنت میں رہتی ہے، یہاں تک کہ جب اس کے پاس ملک الموت آتا ہے تو وہ اس سے کہتا ہے: آگ میں جانے والوں کے ساتھ دوزخ میں داخل ہو جا؛ آگاہ رہو! جو شخص کسی عورت کو اس قدر ستائے کہ وہ اس سے خلع لے لے تو اللہ اور اس کا رسول اس (مرد) سے بری الذمہ ہیں“
مزید ارشاد فرمایا: ”جس نے اپنی بیوی کی بدخلقی پر اللہ سے اجر کی امید رکھتے ہوئے صبر کیا، تو اللہ عزوجل اسے ویسا ہی ثواب عطا فرمائے گا جیسا سیدنا ایوب علیہ السلام کو ان کی آزمائش پر عطا فرمایا تھا، جبکہ اس عورت پر ہر دن اور رات 'عالج' کے ریگستان کی ریت کے ذرات کے برابر گناہ ہوگا؛ چنانچہ اگر وہ شوہر کی مدد کرنے اور اسے راضی کرنے سے پہلے مر گئی تو قیامت کے دن اسے اوندھے منہ منافقین کے ساتھ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں اٹھایا جائے گا“
اور فرمایا: ”جس کی ایسی بیوی ہو جو اس کے موافق نہ چلے، اللہ کے دیے ہوئے رزق پر صبر نہ کرے بلکہ اس پر تنگی کرے اور اسے اس کی طاقت سے زیادہ کاموں کا مکلف بنائے، تو اس کی کوئی نیکی قبول نہیں کی جائے گی، اور اگر وہ اسی حالت میں مر گئی تو اسے ان لوگوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا جن پر اللہ کا غضب ہوا“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1604
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :لم يذكر حكمًا صريحًا على الإسناد. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 245»