کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: نبی کریم ﷺ کی قبرِ مبارک کی زیارت کا بیان۔
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : إِنَّ ابْنَ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَهْ ! .
1320 \ 2 - وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - : أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ ، فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .
1320 \ 2 - وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - : أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ ، فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب آپ سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجدِ نبوی ﷺ میں دو رکعت نماز ادا کرتے، پھر قبرِ اطہر پر حاضر ہو کر عرض کرتے: «السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ» ”سلام ہو آپ پر اے اللہ کے رسول!“، «السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ» ”سلام ہو آپ پر اے ابوبکر!“، «السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَهْ» ”سلام ہو آپ پر اے میرے والد محترم!“۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ سفر سے واپس آتے تو مسجد سے ابتدا کرتے، وہاں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر قبرِ مبارک پر حاضر ہوتے، اور راوی نے پہلی روایت کی مثل ذکر کیا۔ وضاحت: یہ روایت صحیح موقوف ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَا تَجْعَلُنَّ قَبْرِي وَثَنًا .
ترجمہ
ابو یعلیٰ نے اپنی سند سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم میری قبر کو ہرگز بت نہ بنانا۔“
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو الْجَرَّاحِ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ آلِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : مَنْ زَارَ قَبْرِي - أَوْ قَالَ : مَنْ زَارَنِي - كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا . وَمَنْ مَاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَيْنِ بَعَثَهُ اللهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي الْآمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
ترجمہ
امام طیالسی رحمہ اللہ نے اپنی سند سے روایت کیا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے میری قبر کی زیارت کی - یا آپ ﷺ نے (بشک) فرمایا: جس نے میری زیارت کی - تو میں (قیامت کے دن) اس کے لیے گواہ یا سفارشی بنوں گا، اور جو شخص حرمین (مکہ یا مدینہ) میں سے کسی ایک میں وفات پا گیا، اللہ «عَزَّ وَجَلَّ» ”وہ جو صاحبِ عزت و جلال ہے“ اسے قیامت کے دن امن و امان پانے والوں کے گروہ میں اٹھائے گا“۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ حَجَّ فَزَارَنِي بَعْدَ وَفَاتِي كَانَ كَمَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِي .
ترجمہ
امام ابو یعلیٰ نے سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے حج کیا اور میری وفات کے بعد میری زیارت کی، وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی ہو۔“
وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - مِنْ وَلَدِ ذِي الْجَنَاحَيْنِ - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَجِيءُ إِلَى خَوْخَةٍ كَانَتْ عِنْدَ قَبْرِ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَدْخُلُ فِيهَا فَيَدْعُو ، فَدَعَاهُ ، فَقَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي ، عَنْ جَدِّي - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - عَنْ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي عِيدًا ، وَلَا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا ، وَصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ وَتَسْلِيمَكُمْ يَبْلُغُنِي حَيْثُمَا كُنْتُمْ .
1324 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بِهَذَا .
1324 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بِهَذَا .
ترجمہ
ابن ابی شیبہ نے اپنی سند کے ساتھ سیدنا علی بن حسین رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو رسول اللہ ﷺ کی قبرِ اطہر کے پاس موجود ایک روزن (سوراخ یا چھوٹی کھڑکی) کے پاس آتا، اس میں داخل ہوتا اور وہاں دعا کرتا تھا، تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: ”کیا میں تمہیں وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے اپنے والد سے اور انہوں نے میرے دادا رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میری قبر کو عید (بار بار جمع ہونے کی جگہ یا میلہ گاہ) نہ بناؤ اور نہ ہی اپنے گھروں کو قبرستان بناؤ، اور مجھ پر درود بھیجو کیونکہ تمہارا درود اور تمہارا سلام مجھ تک پہنچ جاتا ہے جہاں کہیں بھی تم ہو“، اور امام ابو یعلیٰ نے بھی ابوبکر بن ابی شیبہ کی سند سے اسی طرح روایت بیان کی ہے۔