المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ زِيَارَةِ قَبْرٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کی قبرِ مبارک کی زیارت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1322
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو الْجَرَّاحِ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ آلِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : مَنْ زَارَ قَبْرِي - أَوْ قَالَ : مَنْ زَارَنِي - كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا . وَمَنْ مَاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَيْنِ بَعَثَهُ اللهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي الْآمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .ترجمہ
امام طیالسی رحمہ اللہ نے اپنی سند سے روایت کیا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے میری قبر کی زیارت کی - یا آپ ﷺ نے (بشک) فرمایا: جس نے میری زیارت کی - تو میں (قیامت کے دن) اس کے لیے گواہ یا سفارشی بنوں گا، اور جو شخص حرمین (مکہ یا مدینہ) میں سے کسی ایک میں وفات پا گیا، اللہ «عَزَّ وَجَلَّ» ”وہ جو صاحبِ عزت و جلال ہے“ اسے قیامت کے دن امن و امان پانے والوں کے گروہ میں اٹھائے گا“۔