المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ زِيَارَةِ قَبْرٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کی قبرِ مبارک کی زیارت کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - مِنْ وَلَدِ ذِي الْجَنَاحَيْنِ - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَجِيءُ إِلَى خَوْخَةٍ كَانَتْ عِنْدَ قَبْرِ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَدْخُلُ فِيهَا فَيَدْعُو ، فَدَعَاهُ ، فَقَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي ، عَنْ جَدِّي - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - عَنْ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي عِيدًا ، وَلَا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا ، وَصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ وَتَسْلِيمَكُمْ يَبْلُغُنِي حَيْثُمَا كُنْتُمْ .
1324 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بِهَذَا .ابن ابی شیبہ نے اپنی سند کے ساتھ سیدنا علی بن حسین رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو رسول اللہ ﷺ کی قبرِ اطہر کے پاس موجود ایک روزن (سوراخ یا چھوٹی کھڑکی) کے پاس آتا، اس میں داخل ہوتا اور وہاں دعا کرتا تھا، تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: ”کیا میں تمہیں وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے اپنے والد سے اور انہوں نے میرے دادا رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میری قبر کو عید (بار بار جمع ہونے کی جگہ یا میلہ گاہ) نہ بناؤ اور نہ ہی اپنے گھروں کو قبرستان بناؤ، اور مجھ پر درود بھیجو کیونکہ تمہارا درود اور تمہارا سلام مجھ تک پہنچ جاتا ہے جہاں کہیں بھی تم ہو“، اور امام ابو یعلیٰ نے بھی ابوبکر بن ابی شیبہ کی سند سے اسی طرح روایت بیان کی ہے۔