المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ باب: ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن افطار کرنے (یعنی روزہ نہ رکھنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1113
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ثَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، ثَنَا أَبُو هُبَيْرَةَ ، عَنْ صَدَقَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ أَفْضَلَ الصِّيَامِ صِيَامُ أَخِي دَاوُدَ ، كَانَ يَصُومُ نِصْفَ الدَّهْرِ ، يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا .ترجمہ
امام احمد بن منیع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”بے شک سب سے افضل روزہ میرے بھائی داود علیہ السلام کا روزہ ہے، وہ نصف عمر روزے سے رہتے تھے، یعنی وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔“