المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ باب: ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن افطار کرنے (یعنی روزہ نہ رکھنے) کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، ثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، ثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ أَتَى عَلَى رَجُلٍ ، فَقَالُوا : مَا أَفْطَرَ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ : لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ ، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غَضَبَهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، صَوْمُ يَوْمَيْنِ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ ؟ قَالَ : أَوَ يُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ ؟ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ صَوْمُ يَوْمٍ ، وَإِفْطَارُ يَوْمٍ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ صَوْمُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمَيْنِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، صَوْمُ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ ، وَيَوْمٌ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ النُّبُوَّةُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، صَوْمُ عَرَفَةَ ، وَيَوْمِ عَاشُورَاءَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَحَدُهُمَا يُكَفِّرُ سَنَةً ، وَالْآخَرُ يُكَفِّرُ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا .
قُلْتُ : الْمَحْفُوظُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ : عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بِطُولِهِ ، أَخْرَجَهُ مِنْ ذَلِكَ الْوَجْهِ مُسْلِمٌ وَأَصْحَابُ السُّنَنِ .سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی معیت میں تھے کہ آپ کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا، لوگوں نے عرض کیا کہ یہ شخص فلاں فلاں وقت سے مسلسل روزے سے ہے اور کبھی ناغہ نہیں کرتا، آپ ﷺ نے (اس غلو پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے) فرمایا: ”اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا۔“ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر غصے کے آثار دیکھے تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی دو دن روزے رکھے اور ایک دن افطار کرے تو کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بھلا اس کی طاقت کون رکھتا ہے؟“ پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن افطار کرنے کے متعلق کیا ارشاد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ میرے بھائی داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے۔“ پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے تو (کیسا ہے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور اس کی طاقت کس میں ہے؟“ پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! پیر کے دن روزہ رکھنے کی کیا فضیلت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی و نبوت کا نزول ہوا۔“ عرض کیا: اے اللہ کے رسول! عرفہ اور عاشورہ کے روزے کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے ایک (عاشورہ کا روزہ) ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے اور دوسرا (عرفہ کا روزہ) گزشتہ سال اور آنے والے سال کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔“
محقق کہتے ہیں کہ اس سند کے ساتھ محفوظ روایت یہی ہے کہ اسے عبداللہ بن معبد نے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے تفصیلاً بیان کیا ہے، اور امام مسلم اور اصحابِ سنن نے اسی طریق سے اسے روایت کیا ہے۔