المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ باب: ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن افطار کرنے (یعنی روزہ نہ رکھنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1112
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَصُومُ الدَّهْرَ ؟ فَنَهَاهُ ، وَعَاوَدَهُ فَنَهَاهُ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : وَلَكِنْ صَوْمَ دَاوُدَ ; صُمْ يَوْمًا ، وَأَفْطِرْ يَوْمًا ; فَإِنَّ ذَلِكَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ . فَمَا زَالَ ذَلِكَ الرَّجُلُ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا حَتَّى مَاتَ .ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا میں صومِ دہر (عمر بھر کے روزے) رکھوں؟ تو آپ ﷺ نے اسے اس سے منع فرما دیا، اس شخص نے تین مرتبہ اپنا سوال دہرایا مگر آپ ﷺ اسے منع ہی فرماتے رہے، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لیکن تم داؤد علیہ السلام کے روزے کی طرح روزہ رکھو؛ ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو (ناغہ کرو)، کیونکہ بلاشبہ یہی داؤد علیہ السلام کا طریقہِ صوم ہے“، چنانچہ وہ شخص اپنی وفات تک اسی معمول پر کاربند رہا کہ ایک دن روزہ رکھتا اور ایک دن ناغہ کرتا تھا۔