کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: عاملِ زکوٰۃ کو راضی کرنے اور اسے زکوٰۃ دے کر ذمہ داری سے بری ہونے کا بیان۔
❮
❯
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : يَأْتِيكُمْ رَكْبٌ مُبَغَّضُونَ ، فَإِذَا جَاؤُوكُمْ فَرَحِّبُوا بِهِمْ ، وَخَلُّوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَبْغُونَ ، فَإِنْ عَدَلُوا فَلِأَنْفُسِهِمْ ، وَإِنْ ظَلَمُوا فَعَلَيْهِمْ ، وَأَرْضُوهُمْ ، فَإِنَّ تَمَامَ زَكَاتِكُمْ رِضَاهُمْ ، وَلْيَدْعُوا لَكُمْ .
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے پاس ایک ایسا قافلہ آئے گا جسے لوگ ناپسند کرتے ہوں گے۔ جب وہ تمہارے پاس آئیں تو ان کا خیر مقدم کرنا اور وہ جو کچھ لینا چاہیں، انہیں لینے دینا۔ اگر وہ انصاف کریں گے تو اس کا فائدہ انہی کو ہوگا اور اگر ظلم کریں گے تو اس کا وبال انہی پر ہوگا۔ انہیں راضی کر دینا، کیونکہ تمہاری زکوٰۃ کی تکمیل ان کی رضامندی سے ہوگی، اور وہ تمہارے لیے دعا کریں۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الزكاة / حدیث: 905
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه سنن أبي داود برقم: 1588، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 3821، 12635»
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : أَتَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، اللهُ حَسْبِي إِذَا أَدَّيْتُ الزَّكَاةَ إِلَى رَسُولِكَ ، فَقَدْ بَرِئْتُ مِنْهَا إِلَى اللهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ ؟ فَقَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِذَا أَدَّيْتَهَا إِلَى رَسُولِي فَقَدْ بَرِئْتَ مِنْهَا ، فَلَكَ أَجْرُهَا ، وَإِثْمُهَا عَلَى مَنْ بَدَّلَهَا .
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو تمیم کا ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر میں زکوٰۃ آپ کے مقرر کردہ عامل کے حوالے کر دوں تو کیا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے سامنے اس ذمہ داری سے بری ہو جاؤں گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اسے میرے عامل کے سپرد کر دو گے تو تم اس ذمہ داری سے بری ہو جاؤ گے؛ اس کا اجر تمہیں ملے گا اور اگر کوئی اس میں تبدیلی کرے گا تو اس کا گناہ اسی پر ہوگا۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الزكاة / حدیث: 906
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف؛ فيه انقطاع. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 11986، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 3426، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 8797، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2104»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي بَعْجَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ زَاهِرِ بْنِ يَرْبُوعٍ ، قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : أَكَرِيمُ كَرِيمَةِ مَالِي ؟ قَالَ : لَا ، إِنْ أَقْبَلُوا فَلَا تَعْصُوهُمْ ، وَإِنْ أَدْبَرُوا فَلَا تُحَيُّوهُمْ ، فَيَكُونَ عَاصِيًا تَخْضِبُ غَيْرَ ظَالِمٍ ، قُلْ دُونَ الْحَقِّ ، خُذِ الْحَقَّ ، وَدَعِ الْبَاطِلَ ، فَإِنْ أَخَذَ فَذَاكَ ، وَإِنْ تَجَاوَزَ إِلَى غَيْرِهَا فَاصْبِرْ ، يَجْمَعُ اللهُ تَعَالَى لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الْمِيزَانِ .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .
ترجمہ
سیدنا زاہر بن یربوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا میں اپنے مال کا سب سے عمدہ اور نفیس حصہ (بطورِ زکوٰۃ) پیش کروں؟ تو انہوں نے فرمایا: ”نہیں، (بلکہ درمیانی درجہ کا مال دو)، اگر زکوٰۃ وصول کرنے والے تمہارے پاس آئیں تو ان کی نافرمانی نہ کرو اور جب وہ (مال لے کر) پیٹھ پھیر کر رخصت ہوں تو ان کے پیچھے نہ پڑو، تاکہ وہ خود گناہ گار ٹھہریں اور تم کسی پر ظلم کیے بغیر اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاؤ۔ تم حق بات کہو کہ: جو حق ہے اسے لے لو اور جو باطل (ناواجب زیادتی) ہے اسے چھوڑ دو، پھر اگر وہ حق وصول کر لے تو یہی مطلوب ہے، لیکن اگر وہ اس سے تجاوز کر کے زیادتی کرے تو پھر صبر کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میزانِ عمل میں تمہارے لیے وہ سب (اجر و ثواب کی صورت میں) جمع فرما دے گا۔“
یہ روایت صحیح اور موقوف ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ قول صحابیِ رسول ﷺ پر ختم ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الزكاة / حدیث: 907
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ . »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»