المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ بِرِضَى عَامِلِ الصَّدَقَةِ وَأَنَّ الْمُعْطِيَ يَبْرَأُ مِمَّا عَلَيْهِ إِذَا أَعْطَاهَا لَهُ باب: عاملِ زکوٰۃ کو راضی کرنے اور اسے زکوٰۃ دے کر ذمہ داری سے بری ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 905
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : يَأْتِيكُمْ رَكْبٌ مُبَغَّضُونَ ، فَإِذَا جَاؤُوكُمْ فَرَحِّبُوا بِهِمْ ، وَخَلُّوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَبْغُونَ ، فَإِنْ عَدَلُوا فَلِأَنْفُسِهِمْ ، وَإِنْ ظَلَمُوا فَعَلَيْهِمْ ، وَأَرْضُوهُمْ ، فَإِنَّ تَمَامَ زَكَاتِكُمْ رِضَاهُمْ ، وَلْيَدْعُوا لَكُمْ .ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے پاس ایک ایسا قافلہ آئے گا جسے لوگ ناپسند کرتے ہوں گے۔ جب وہ تمہارے پاس آئیں تو ان کا خیر مقدم کرنا اور وہ جو کچھ لینا چاہیں، انہیں لینے دینا۔ اگر وہ انصاف کریں گے تو اس کا فائدہ انہی کو ہوگا اور اگر ظلم کریں گے تو اس کا وبال انہی پر ہوگا۔ انہیں راضی کر دینا، کیونکہ تمہاری زکوٰۃ کی تکمیل ان کی رضامندی سے ہوگی، اور وہ تمہارے لیے دعا کریں۔“