المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ بِرِضَى عَامِلِ الصَّدَقَةِ وَأَنَّ الْمُعْطِيَ يَبْرَأُ مِمَّا عَلَيْهِ إِذَا أَعْطَاهَا لَهُ باب: عاملِ زکوٰۃ کو راضی کرنے اور اسے زکوٰۃ دے کر ذمہ داری سے بری ہونے کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي بَعْجَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ زَاهِرِ بْنِ يَرْبُوعٍ ، قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : أَكَرِيمُ كَرِيمَةِ مَالِي ؟ قَالَ : لَا ، إِنْ أَقْبَلُوا فَلَا تَعْصُوهُمْ ، وَإِنْ أَدْبَرُوا فَلَا تُحَيُّوهُمْ ، فَيَكُونَ عَاصِيًا تَخْضِبُ غَيْرَ ظَالِمٍ ، قُلْ دُونَ الْحَقِّ ، خُذِ الْحَقَّ ، وَدَعِ الْبَاطِلَ ، فَإِنْ أَخَذَ فَذَاكَ ، وَإِنْ تَجَاوَزَ إِلَى غَيْرِهَا فَاصْبِرْ ، يَجْمَعُ اللهُ تَعَالَى لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الْمِيزَانِ .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .سیدنا زاہر بن یربوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا میں اپنے مال کا سب سے عمدہ اور نفیس حصہ (بطورِ زکوٰۃ) پیش کروں؟ تو انہوں نے فرمایا: ”نہیں، (بلکہ درمیانی درجہ کا مال دو)، اگر زکوٰۃ وصول کرنے والے تمہارے پاس آئیں تو ان کی نافرمانی نہ کرو اور جب وہ (مال لے کر) پیٹھ پھیر کر رخصت ہوں تو ان کے پیچھے نہ پڑو، تاکہ وہ خود گناہ گار ٹھہریں اور تم کسی پر ظلم کیے بغیر اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاؤ۔ تم حق بات کہو کہ: جو حق ہے اسے لے لو اور جو باطل (ناواجب زیادتی) ہے اسے چھوڑ دو، پھر اگر وہ حق وصول کر لے تو یہی مطلوب ہے، لیکن اگر وہ اس سے تجاوز کر کے زیادتی کرے تو پھر صبر کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میزانِ عمل میں تمہارے لیے وہ سب (اجر و ثواب کی صورت میں) جمع فرما دے گا۔“
یہ روایت صحیح اور موقوف ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ قول صحابیِ رسول ﷺ پر ختم ہوتا ہے۔