المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ جَوَازِ تَعْجِيلِ الزَّكَاةِ باب: زکوٰۃ کی وقت سے پہلے ادائیگی کے جائز ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 908
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، وَحَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَتَعَجَّلُ صَدَقَةَ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ سَنَتَيْنِ .
قُلْتُ : يُوسُفُ تَالِفٌ ، لَكِنَّهُ تُوبِعَ ، فَقَالَ الْبَزَّارُ بَعْدَ أَنْ أَخْرَجَهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَجَلِيِّ ، عَنِ الْحَكَمِ : الْحَسَنُ الْبَجَلِيُّ هَذَا هُوَ ابْنُ عُمَارَةَ ، لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ غَيْرُهُ .ترجمہ
سیدنا موسیٰ بن طلحہ اپنے والد گرامی (سیدنا طلحہ بن عبید اللہ) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک ”رسول اللہ ﷺ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے ان کے مال کی زکوٰۃ دو سال قبل ہی پیشگی وصول فرما لیا کرتے تھے۔“
میں (مؤلف) کہتا ہوں کہ اس سند کا راوی یوسف تالف (سخت ضعیف) ہے، تاہم اس کی متابعت موجود ہے، چنانچہ امام بزار نے اسے ایک دوسرے طریق سے حسن بجلی عن الحکم کی سند سے نقل کرنے کے بعد صراحت کی ہے کہ یہ حسن بجلی دراصل وہی ابن عمارہ ہے، اور ہمارے علم کے مطابق اسے اس کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا۔