المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ بِرِضَى عَامِلِ الصَّدَقَةِ وَأَنَّ الْمُعْطِيَ يَبْرَأُ مِمَّا عَلَيْهِ إِذَا أَعْطَاهَا لَهُ باب: عاملِ زکوٰۃ کو راضی کرنے اور اسے زکوٰۃ دے کر ذمہ داری سے بری ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 906
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : أَتَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، اللهُ حَسْبِي إِذَا أَدَّيْتُ الزَّكَاةَ إِلَى رَسُولِكَ ، فَقَدْ بَرِئْتُ مِنْهَا إِلَى اللهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ ؟ فَقَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِذَا أَدَّيْتَهَا إِلَى رَسُولِي فَقَدْ بَرِئْتَ مِنْهَا ، فَلَكَ أَجْرُهَا ، وَإِثْمُهَا عَلَى مَنْ بَدَّلَهَا .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو تمیم کا ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر میں زکوٰۃ آپ کے مقرر کردہ عامل کے حوالے کر دوں تو کیا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے سامنے اس ذمہ داری سے بری ہو جاؤں گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اسے میرے عامل کے سپرد کر دو گے تو تم اس ذمہ داری سے بری ہو جاؤ گے؛ اس کا اجر تمہیں ملے گا اور اگر کوئی اس میں تبدیلی کرے گا تو اس کا گناہ اسی پر ہوگا۔“