کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: مردوں کو برا کہنے کی ممانعت اور ان کی اچھی تعریف کی ترغیب کا بیان۔
❮
❯
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، أَنْبَأَنِي خَيْثَمَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : مَثَلُ الَّذِي يَسُبُّ الْمَيِّتَ كَالْمُشْرِفِ عَلَى الْهَلَكَةِ ، وَمَثَلُ الَّذِي يَجْلِسُ عَلَى فِرَاشِ الْمُغِيبَةِ ، مَثَلُ الَّذِي تُنَفَّسُ دُبُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
ترجمہ
خیثمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”میت کو برا بھلا کہنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو ہلاکت کے کنارے پر کھڑا ہو، اور جس عورت کا شوہر گھر سے غائب ہو، اس کے بستر پر بیٹھنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جس کا مقعد قیامت کے دن کشادہ کر دیا جائے گا۔“
وضاحت: اس اثر میں میت کو برا بھلا کہنے اور ایسی غیر محرم عورت کے پاس جانے پر سخت وعید بیان کی گئی ہے جس کا شوہر گھر میں موجود نہ ہو۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجنائز / حدیث: 879
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حسن لغيره. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِجِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهِ خَيْرًا ، فَقَالَ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا دُونَ ذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : وَجَبَتْ . فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا وَجَبَتْ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : الْمَلَائِكَةُ شُهُودُ اللهِ فِي السَّمَاءِ ، وَأَنْتُمْ شُهُودُ اللهِ فِي الْأَرْضِ .
هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ .
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے سے ایک انصاری شخص کا جنازہ گزرا تو اس کی خیر و بھلائی کے ساتھ تعریف کی گئی، جس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”واجب ہوگئی۔“ پھر آپ ﷺ کے پاس سے ایک اور جنازہ گزرا جس کی (پہلے کے مقابلے میں) کم تعریف کی گئی، تو رسول اللہ ﷺ نے دوبارہ ارشاد فرمایا: ”واجب ہوگئی۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا چیز واجب ہوگئی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”فرشتے آسمان میں اللہ کے گواہ ہیں اور تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔“
اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجنائز / حدیث: 880
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ . »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 1301، وأخرجه سنن الترمذي برقم: 1058، وأخرجه سنن النسائي برقم: 1932، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 1491، وأخرجه مسند أحمد برقم: 12526، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 2، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1847»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَشْهَدُ لَهُ أَرْبَعَةُ أَهْلِ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنِ أَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ مِنْهُ إِلَّا خَيْرًا ، إِلَّا قَالَ اللهُ تَعَالَى : قَدْ قَبِلْتُ عِلْمَكُمْ ، وَغَفَرْتُ لَهُ مَا لَا تَعْلَمُونَ .
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بھی مسلمان جب وفات پا جاتا ہے اور اس کے قریب ترین ہمسایوں میں سے چار گھرانوں کے افراد اس کے حق میں یہ گواہی دیتے ہیں کہ وہ اس کے بارے میں خیر و بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتے، تو اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے (اپنے بندے کے متعلق) تمہارا علم قبول کر لیا ہے اور اسے وہ گناہ بھی معاف کر دیے ہیں جن کا تمہیں علم نہیں تھا۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجنائز / حدیث: 881
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :لم يذكر حكمًا صريحًا على الإسناد. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 13129، وأخرجه فتح الباري برقم: 1، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 1438، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1848»