المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَنْ كَرِهَ الصَّلَاةَ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي الْمَسْجِدِ باب: مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنے کی کراہت کے قائلین کا بیان۔
قَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ قَالَ : أَدْرَكْتُ رِجَالًا مِمَّنْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبَا بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - إِذَا جَاؤُوا فَلَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يُصَلُّوا فِي الْمَسْجِدِ رَجَعُوا فَلَمْ يُصَلُّوا .
882 \ 2 - وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، وَمَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ الْجِنَازَةَ تُوضَعُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَرَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - إِذَا لَمْ يَجِدْ مَوْضِعًا إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ انْصَرَفَ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا .امام طیالسی رحمہ اللہ نے ابن ابی ذئب سے اور انہوں نے صالح مولیٰ التوامہ سے روایت کیا کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان جلیل القدر اصحابِ رسول کو پایا ہے جنہوں نے نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عہدِ مبارک دیکھا تھا، ان کا عمل یہ تھا کہ جب وہ جنازہ پڑھنے کے لیے تشریف لاتے اور انہیں مسجد کے سوا کوئی اور جگہ میسر نہ ہوتی تو وہ واپس لوٹ جاتے اور مسجد کے اندر نمازِ جنازہ ادا نہ کرتے تھے۔
اسی طرح امام عبدالرزاق نے امام سفیان ثوری اور معمر کے واسطے سے صالح کا یہ مشاہدہ نقل کیا ہے کہ میں نے دیکھا کہ جب جنازہ مسجد میں رکھا جاتا اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد کے علاوہ کہیں اور جگہ نماز کے لیے نہ ملتی تو وہ واپس تشریف لے جاتے اور مسجد میں اس جنازے پر نماز ادا نہیں فرماتے تھے۔