المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى وَالتَّرْغِيبِ فِي الثَّنَاءِ الْحَسَنِ عَلَيْهِمْ باب: مردوں کو برا کہنے کی ممانعت اور ان کی اچھی تعریف کی ترغیب کا بیان۔
حدیث نمبر: 880
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِجِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهِ خَيْرًا ، فَقَالَ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا دُونَ ذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : وَجَبَتْ . فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا وَجَبَتْ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : الْمَلَائِكَةُ شُهُودُ اللهِ فِي السَّمَاءِ ، وَأَنْتُمْ شُهُودُ اللهِ فِي الْأَرْضِ .
هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ .ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے سے ایک انصاری شخص کا جنازہ گزرا تو اس کی خیر و بھلائی کے ساتھ تعریف کی گئی، جس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”واجب ہوگئی۔“ پھر آپ ﷺ کے پاس سے ایک اور جنازہ گزرا جس کی (پہلے کے مقابلے میں) کم تعریف کی گئی، تو رسول اللہ ﷺ نے دوبارہ ارشاد فرمایا: ”واجب ہوگئی۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا چیز واجب ہوگئی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”فرشتے آسمان میں اللہ کے گواہ ہیں اور تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔“
اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔