المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى وَالتَّرْغِيبِ فِي الثَّنَاءِ الْحَسَنِ عَلَيْهِمْ باب: مردوں کو برا کہنے کی ممانعت اور ان کی اچھی تعریف کی ترغیب کا بیان۔
حدیث نمبر: 879
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، أَنْبَأَنِي خَيْثَمَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : مَثَلُ الَّذِي يَسُبُّ الْمَيِّتَ كَالْمُشْرِفِ عَلَى الْهَلَكَةِ ، وَمَثَلُ الَّذِي يَجْلِسُ عَلَى فِرَاشِ الْمُغِيبَةِ ، مَثَلُ الَّذِي تُنَفَّسُ دُبُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .ترجمہ
خیثمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”میت کو برا بھلا کہنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو ہلاکت کے کنارے پر کھڑا ہو، اور جس عورت کا شوہر گھر سے غائب ہو، اس کے بستر پر بیٹھنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جس کا مقعد قیامت کے دن کشادہ کر دیا جائے گا۔“
وضاحت: اس اثر میں میت کو برا بھلا کہنے اور ایسی غیر محرم عورت کے پاس جانے پر سخت وعید بیان کی گئی ہے جس کا شوہر گھر میں موجود نہ ہو۔