المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى وَالتَّرْغِيبِ فِي الثَّنَاءِ الْحَسَنِ عَلَيْهِمْ باب: مردوں کو برا کہنے کی ممانعت اور ان کی اچھی تعریف کی ترغیب کا بیان۔
حدیث نمبر: 881
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَشْهَدُ لَهُ أَرْبَعَةُ أَهْلِ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنِ أَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ مِنْهُ إِلَّا خَيْرًا ، إِلَّا قَالَ اللهُ تَعَالَى : قَدْ قَبِلْتُ عِلْمَكُمْ ، وَغَفَرْتُ لَهُ مَا لَا تَعْلَمُونَ .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بھی مسلمان جب وفات پا جاتا ہے اور اس کے قریب ترین ہمسایوں میں سے چار گھرانوں کے افراد اس کے حق میں یہ گواہی دیتے ہیں کہ وہ اس کے بارے میں خیر و بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتے، تو اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے (اپنے بندے کے متعلق) تمہارا علم قبول کر لیا ہے اور اسے وہ گناہ بھی معاف کر دیے ہیں جن کا تمہیں علم نہیں تھا۔“