کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: قبر پر نمازِ جنازہ ادا کرنے کا بیان۔
❮
❯
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ : إِنَّ الْبَرَاءَ بْنَ مَعْرُورٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - تُوُفِّيَ قَبْلَ قُدُومِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ ، فَلَمَّا قَدِمَ صَلَّى عَلَيْهِ .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ ، إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ .
875 \ 2 - وَرَوَاهُ الْحَارِثُ مَوْصُولًا ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى قَبْرِ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ .
ترجمہ
حمید بن ہلال رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آوری سے پہلے وفات پا گئے تھے۔ پھر جب آپ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے ان کی نمازِ جنازہ ادا فرمائی۔
اس کی سند صحیح ہے، البتہ یہ روایت مرسل ہے۔
امام حارث رحمہ اللہ نے اسے متصل سند سے روایت کیا ہے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ کی قبر پر نمازِ جنازہ ادا فرمائی اور چار تکبیریں کہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجنائز / حدیث: 875
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ ، إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ . »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 4، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1920/1»
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ قُنْفُذٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَبْرٍ حَدَثٍ ، فَقَالَ : مَا هَذَا الْقَبْرُ ؟ قَالُوا : قَبْرُ فُلَانَةَ ، قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : فَهَلَّا آذَنْتُمُونِي ؟ قَالُوا : كُنْتَ نَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ ، قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : فَلَا تَفْعَلُوا ، ادْعُونِي لِجَنَائِزِكُمْ ، فَصَفَّ عَلَيْهَا صَفًّا .
إِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ .
ترجمہ
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک نئی قبر کے پاس سے ہوا تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ قبر کس کی ہے؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: یہ فلاں خاتون کی قبر ہے، اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم نے مجھے (اس کے جنازے کی) اطلاع کیوں نہ دی؟“ انہوں نے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول!) آپ اس وقت استراحت فرما رہے تھے، اس لیے ہمیں آپ کو بیدار کرنا گراں معلوم ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”آئندہ ایسا نہ کرنا، اپنے جنازوں کے لیے مجھے بلا لیا کرو۔“ پھر آپ ﷺ نے اس قبر پر (نمازِ جنازہ کے لیے) ایک صف بنائی۔
اس حدیث کی سند حسن ہے اور امام ابنِ ماجہ نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجنائز / حدیث: 876
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: إِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . »
«أخرجه سنن ابن ماجه برقم: 1529، وأخرجه مسند أحمد برقم: 15246، وأخرجه الأحاديث المختارة برقم: 219، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1921/1»
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : إِنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَلْقُطُ الْقَصَبَ وَالْأَذَى مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَمَرَّ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَبْرِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون مسجد سے خس و خاشاک اور دیگر تکلیف دہ اشیاء (کوڑا کرکٹ) چن کر صفائی کیا کرتی تھیں، پھر ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ان کی قبر کے پاس سے ہوا تو آپ ﷺ نے (وہاں رک کر) ان کی نمازِ جنازہ ادا فرمائی۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجنائز / حدیث: 877
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف منقطع. »
«أخرجه عبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 489، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 877»
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْحِمْيَرِيُّ أَبُو سُفْيَانَ - وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ - عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُ فُقَرَاءَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، وَيَشْهَدُ جَنَائِزَهُمْ إِذَا تُوُفُّوا ، قَالَ : فَتُوُفِّيَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي ، قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِذَا حُضِرَتْ فَآذِنُونِي قَالَ : فَأَتَوْهُ لِيُؤْذِنُوهُ بِهَا فَوَجَدُوهُ نَائِمًا وَقَدْ ذَهَبَ اللَّيْلُ ، فَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوهُ ، وَتَخَوَّفُوا عَلَيْهِ ظُلْمَةَ اللَّيْلِ وَهَوَامَّ الْأَرْضِ ، فَدَفَنُوهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلَ عَنْهَا ، فَقَالُوا ذَلِكَ ، فَمَشَى - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قَبْرِهَا ، فَصَلَّى عَلَيْهَا ، وَكَبَّرَ أَرْبَعًا .
878 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ ، أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَفِيهِ : ... مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي ، طَالَ سَقَمُهَا ، وَكَانَ يَسْأَلُ عَنْهَا مَنْ حَضَرَ مِنْ جِيرَانِهَا ، وَأَمَرَهُمْ إِنْ حَدَثَ بِهَا حَدَثٌ أَنْ يُؤْذِنُوهُ بِهَا . وَفِيهِ : فَاحْتَمَلُوهَا فَأَتَوْا بِهَا مَوْضِعَ الْجَنَائِزِ . فَكَرِهُوا أَنْ يُهَيِّجُوهُ مِنْ نَوْمِهِ ، فَقَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : وَلِمَ فَعَلْتُمْ ؟ قُومُوا ، فَقَامَ فَصَفَّ عَلَيْهَا كَمَا يُصَفُّ عَلَى الْجَنَائِزِ ، وَصَفُّوا خَلْفَهُ ، ثُمَّ كَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا .
تَابَعَهُ بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ . أَخْرَجَهُ الْبَيْهَقِيُّ .
ترجمہ
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اہلِ مدینہ کے فقراء کی عیادت فرمایا کرتے تھے اور جب ان میں سے کسی کا انتقال ہو جاتا تو اس کے جنازے میں شرکت فرماتے تھے۔ عوالی کی ایک خاتون کا انتقال ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”جب ان کا آخری وقت آ جائے تو مجھے اطلاع دینا۔“ چنانچہ لوگ آپ ﷺ کو اطلاع دینے کے لیے آئے، مگر آپ ﷺ کو سویا ہوا پایا اور رات کافی گزر چکی تھی۔ انہوں نے آپ ﷺ کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا اور آپ ﷺ کے لیے رات کی تاریکی اور زمین کے موذی جانوروں کا اندیشہ کیا، لہٰذا انہوں نے اس خاتون کو دفن کر دیا۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس خاتون کے بارے میں دریافت فرمایا۔ لوگوں نے سارا واقعہ عرض کر دیا، تو آپ ﷺ ان کی قبر پر تشریف لے گئے، ان کی نمازِ جنازہ ادا فرمائی اور چار تکبیریں کہیں۔
امام حارث رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ عوالی کی اس خاتون کی بیماری طویل ہو گئی تھی۔ رسول اللہ ﷺ ان کے پڑوسیوں میں سے حاضر ہونے والوں سے ان کا حال دریافت فرمایا کرتے تھے اور آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا کہ اگر ان کا انتقال ہو جائے تو آپ ﷺ کو اطلاع دیں۔ جب ان کا انتقال ہوا تو لوگ ان کا جنازہ اٹھا کر جنازہ گاہ لے آئے، لیکن انہوں نے آپ ﷺ کو نیند سے بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟ اٹھو۔“ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے، جنازے کی نماز کی طرح صف بنائی، صحابہ کرام آپ ﷺ کے پیچھے صف بستہ ہوئے اور آپ ﷺ نے اس خاتون پر چار تکبیریں کہیں۔
اس روایت میں بشر بن بکر نے امام اوزاعی رحمہ اللہ کی متابعت کی ہے اور امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی اسے روایت کیا ہے۔
وضاحت: یہ روایت رسول اللہ ﷺ کی صحابہ کرام، بالخصوص فقراء، کے ساتھ شفقت اور دفن کے بعد قبر پر نمازِ جنازہ ادا کرنے کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجنائز / حدیث: 878
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حسن لغيره. »
«أخرجه سنن النسائي برقم: 1981، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 7، 15، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 5586، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 3587، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1922/1»