کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: بچے اور ولد الزنا کی نمازِ جنازہ کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، قَالَ : صَلَّى ابْنُ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - عَلَى مَوْلُودٍ فِي الدَّارِ ، ثُمَّ بَعَثَ بِهِ فَدُفِنَ . فَقُلْتُ لِنَافِعٍ : أَكَانَ اسْتَهَلَّ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے گھر ہی میں ایک نومولود بچے کی نمازِ جنازہ ادا کی، پھر اسے (تدفین کے لیے) روانہ کیا اور اسے سپردِ خاک کر دیا گیا، (راویِ حدیث عبید اللہ کہتے ہیں کہ) میں نے نافع سے دریافت کیا: کیا اس بچے نے ولادت کے وقت آواز نکالی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نہیں جانتا۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، أَنَّهُ شَهِدَ ابْنَ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فِي جِنَازَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يُوَسْوِسُونَ : هُوَ ابْنُ زِنْيَةٍ ، فَقَالَ فُلَانٌ : يُقَالُ : هُوَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَابْنَ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَقَالَ : لَا ، هُوَ خَيْرُ الثَّلَاثَةِ .
ترجمہ
میمون بن مہران سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ ایک جنازے میں شریک تھے کہ وہاں موجود لوگ آپس میں کانا پھوسی کرنے لگے کہ یہ تو ولد الزنا (ناجائز اولاد) ہے، اسی اثنا میں کسی نے کہا کہ ایسے شخص کے متعلق تو یہ مشہور ہے کہ وہ ان تینوں میں سب سے بدتر ہے، جب یہ بات سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تک پہنچی تو آپ نے اس نظریے کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ”ہرگز نہیں، بلکہ وہ ان تینوں میں سب سے بہتر ہے“
وضاحت: ائمہ و شارحین اس کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ بچہ اپنے زانی والدین کے مقابلے میں اس لیے بہتر ہے کیونکہ وہ گناہ کے ارادے اور اس قبیح فعل سے مبرا و معصوم ہے، اور شریعتِ مطہرہ کا یہ عالمگیر اصول ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ﴾ (سورۃ الفاطر: 18) بالکل واضح ہے کہ کسی بھی جان پر دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں ڈالا جاتا۔
وضاحت: ائمہ و شارحین اس کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ بچہ اپنے زانی والدین کے مقابلے میں اس لیے بہتر ہے کیونکہ وہ گناہ کے ارادے اور اس قبیح فعل سے مبرا و معصوم ہے، اور شریعتِ مطہرہ کا یہ عالمگیر اصول ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ﴾ (سورۃ الفاطر: 18) بالکل واضح ہے کہ کسی بھی جان پر دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں ڈالا جاتا۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا مِنَ الزِّنَا ، وَعَلَى وَلَدِهَا .
ترجمہ
امام احمد بن منیع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی خاتون کی نمازِ جنازہ پڑھائی جو زنا کے نتیجے میں ہونے والی ولادت کے بعد حالتِ نفاس میں انتقال کر گئی تھی، نیز آپ ﷺ نے اس کے اس بچے کی بھی نمازِ جنازہ ادا فرمائی۔