❮
❯
حدیث نمبر: 876
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ قُنْفُذٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَبْرٍ حَدَثٍ ، فَقَالَ : مَا هَذَا الْقَبْرُ ؟ قَالُوا : قَبْرُ فُلَانَةَ ، قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : فَهَلَّا آذَنْتُمُونِي ؟ قَالُوا : كُنْتَ نَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ ، قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : فَلَا تَفْعَلُوا ، ادْعُونِي لِجَنَائِزِكُمْ ، فَصَفَّ عَلَيْهَا صَفًّا .
إِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ .
ترجمہ

سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک نئی قبر کے پاس سے ہوا تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ قبر کس کی ہے؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: یہ فلاں خاتون کی قبر ہے، اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم نے مجھے (اس کے جنازے کی) اطلاع کیوں نہ دی؟“ انہوں نے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول!) آپ اس وقت استراحت فرما رہے تھے، اس لیے ہمیں آپ کو بیدار کرنا گراں معلوم ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”آئندہ ایسا نہ کرنا، اپنے جنازوں کے لیے مجھے بلا لیا کرو۔“ پھر آپ ﷺ نے اس قبر پر (نمازِ جنازہ کے لیے) ایک صف بنائی۔
اس حدیث کی سند حسن ہے اور امام ابنِ ماجہ نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجنائز / حدیث: 876
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: إِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . »
«أخرجه سنن ابن ماجه برقم: 1529، وأخرجه مسند أحمد برقم: 15246، وأخرجه الأحاديث المختارة برقم: 219، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1921/1»