المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ باب: قبر پر نمازِ جنازہ ادا کرنے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ قُنْفُذٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَبْرٍ حَدَثٍ ، فَقَالَ : مَا هَذَا الْقَبْرُ ؟ قَالُوا : قَبْرُ فُلَانَةَ ، قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : فَهَلَّا آذَنْتُمُونِي ؟ قَالُوا : كُنْتَ نَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ ، قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : فَلَا تَفْعَلُوا ، ادْعُونِي لِجَنَائِزِكُمْ ، فَصَفَّ عَلَيْهَا صَفًّا .
إِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ .سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک نئی قبر کے پاس سے ہوا تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ قبر کس کی ہے؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: یہ فلاں خاتون کی قبر ہے، اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم نے مجھے (اس کے جنازے کی) اطلاع کیوں نہ دی؟“ انہوں نے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول!) آپ اس وقت استراحت فرما رہے تھے، اس لیے ہمیں آپ کو بیدار کرنا گراں معلوم ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”آئندہ ایسا نہ کرنا، اپنے جنازوں کے لیے مجھے بلا لیا کرو۔“ پھر آپ ﷺ نے اس قبر پر (نمازِ جنازہ کے لیے) ایک صف بنائی۔
اس حدیث کی سند حسن ہے اور امام ابنِ ماجہ نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے۔