کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: نمازِ جنازہ پر تکبیرات کہنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى أَبُو سُفْيَانَ الْحِمْيَرِيُّ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ - عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُ فُقَرَاءَ الْمَدِينَةِ ..فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : فَمَشَى رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قَبْرِهَا ، فَصَلَّى عَلَيْهَا ، وَكَبَّرَ أَرْبَعًا .
ترجمہ
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ مدینہ منورہ کے نادار اور غریب لوگوں کی بیمار پرسی اور خبر گیری فرمایا کرتے تھے، پھر راوی نے واقعے کی تفصیل کے ساتھ مکمل حدیث بیان کی جس میں یہ بھی مذکور ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ اس (فوت شدہ) خاتون کی قبر کی طرف پیدل چل کر تشریف لے گئے، وہاں اس کی نمازِ جنازہ ادا فرمائی اور چار تکبیرات کہیں۔“
امام ابوبکر ابن ابی شیبہ فرماتے ہیں کہ اس سند کے ایک راوی سعید بن یحییٰ ابو سفیان الحمیری نہایت سچے اور کھرے انسان تھے۔
امام ابوبکر ابن ابی شیبہ فرماتے ہیں کہ اس سند کے ایک راوی سعید بن یحییٰ ابو سفیان الحمیری نہایت سچے اور کھرے انسان تھے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْعَرْزَمِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا .
إِسْنَادُهُ وَاهٍ .
إِسْنَادُهُ وَاهٍ .
ترجمہ
امام ابو یعلیٰ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”نبی کریم ﷺ نے اپنے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور اس میں آپ ﷺ نے چار تکبیریں کہیں۔“
اس روایت کی سند نہایت ضعیف اور کمزور ہے۔
اس روایت کی سند نہایت ضعیف اور کمزور ہے۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ ، أَنْبَأَنَا مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : آخِرُ مَا كَبَّرَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْجَنَائِزِ أَرْبَعًا ، وَكَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَلَى فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - أَرْبَعًا ، وَكَبَّرَ الْحَسَنُ عَلَى عَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَرْبَعًا ، وَكَبَّرَ الْحُسَيْنُ عَلَى الْحَسَنِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - أَرْبَعًا ، وَكَبَّرَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَلَى يَزِيدَ الْمُكَفَّفِ أَرْبَعًا ، وَكَبَّرَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ عَلَى أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - أَرْبَعًا ، وَكَبَّرَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَى آدَمَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ أَرْبَعًا ، وَكَبَّرَ ابْنُ الْحَنَفِيَّةِ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - بِالطَّائِفِ أَرْبَعًا .
هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ .
هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے وفات سے قبل نمازِ جنازہ پر جو آخری عمل فرمایا وہ چار تکبیرات کہنا تھا“ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نمازِ جنازہ پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا حسن نے سیدنا علی رضی اللہ عنہما کی نمازِ جنازہ پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا حسین نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہما کی نمازِ جنازہ پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یزید مُکفّف کی نمازِ جنازہ پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والدِ گرامی (سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ) کی نمازِ جنازہ پر چار تکبیریں کہیں، فرشتوں نے سیدنا آدم علیہ السلام کی نمازِ جنازہ پر چار تکبیریں کہیں، اور محمد بن حنفیہ نے طائف کے مقام پر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نمازِ جنازہ پر چار تکبیریں کہیں۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَزَوَّرِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَبَّرَ عَلَى جِنَازَةٍ خَمْسًا .
ترجمہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے ایک نمازِ جنازہ پڑھائی تو اس میں پانچ تکبیریں کہیں۔“