المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ باب: نمازِ جنازہ پر تکبیرات کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 864
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى أَبُو سُفْيَانَ الْحِمْيَرِيُّ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ - عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُ فُقَرَاءَ الْمَدِينَةِ ..فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : فَمَشَى رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قَبْرِهَا ، فَصَلَّى عَلَيْهَا ، وَكَبَّرَ أَرْبَعًا .ترجمہ
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ مدینہ منورہ کے نادار اور غریب لوگوں کی بیمار پرسی اور خبر گیری فرمایا کرتے تھے، پھر راوی نے واقعے کی تفصیل کے ساتھ مکمل حدیث بیان کی جس میں یہ بھی مذکور ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ اس (فوت شدہ) خاتون کی قبر کی طرف پیدل چل کر تشریف لے گئے، وہاں اس کی نمازِ جنازہ ادا فرمائی اور چار تکبیرات کہیں۔“
امام ابوبکر ابن ابی شیبہ فرماتے ہیں کہ اس سند کے ایک راوی سعید بن یحییٰ ابو سفیان الحمیری نہایت سچے اور کھرے انسان تھے۔