المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ باب: نمازِ جنازہ پر تکبیرات کہنے کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ ، أَنْبَأَنَا مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : آخِرُ مَا كَبَّرَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْجَنَائِزِ أَرْبَعًا ، وَكَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَلَى فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - أَرْبَعًا ، وَكَبَّرَ الْحَسَنُ عَلَى عَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَرْبَعًا ، وَكَبَّرَ الْحُسَيْنُ عَلَى الْحَسَنِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - أَرْبَعًا ، وَكَبَّرَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَلَى يَزِيدَ الْمُكَفَّفِ أَرْبَعًا ، وَكَبَّرَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ عَلَى أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - أَرْبَعًا ، وَكَبَّرَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَى آدَمَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ أَرْبَعًا ، وَكَبَّرَ ابْنُ الْحَنَفِيَّةِ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - بِالطَّائِفِ أَرْبَعًا .
هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے وفات سے قبل نمازِ جنازہ پر جو آخری عمل فرمایا وہ چار تکبیرات کہنا تھا“ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نمازِ جنازہ پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا حسن نے سیدنا علی رضی اللہ عنہما کی نمازِ جنازہ پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا حسین نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہما کی نمازِ جنازہ پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یزید مُکفّف کی نمازِ جنازہ پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والدِ گرامی (سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ) کی نمازِ جنازہ پر چار تکبیریں کہیں، فرشتوں نے سیدنا آدم علیہ السلام کی نمازِ جنازہ پر چار تکبیریں کہیں، اور محمد بن حنفیہ نے طائف کے مقام پر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نمازِ جنازہ پر چار تکبیریں کہیں۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔