المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ وَحُضُورِ الدَّفْنِ وَحَثْوِ التُّرَابِ وَحَفْرِ الْقَبْرِ باب: نمازِ جنازہ، تدفین میں شرکت، مٹی ڈالنے اور قبر کھودنے کی فضیلت کا بیان۔
الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ مَيْسَرَةَ . عَنْ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : وَمَنْ صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ صَلَّى عَلَيْهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَمَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، وَغُفِرَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، وَإِنْ أَقَامَ حَتَّى يُدْفَنَ وَحَثَى عَلَيْهِ التُّرَابَ انْقَلَبَ وَلَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَنْزِلِهِ قِيرَاطٌ مِنَ الْأَجْرِ ، وَالْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَمَنْ حَفَرَ قَبْرًا لِمُسْلِمٍ حَرَّمَهُ اللهُ تَعَالَى عَلَى النَّارِ ، وَبَوَّأَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ، لَوْ وُضِعَ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ ، وَالْحَبَشَةِ لَوَسِعَهُمْ .
هَذَا حَدِيثٌ مَوْضُوعٌ .سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی جس میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی میت کی نمازِ جنازہ پڑھی تو جبرائیل علیہ السلام ستر ہزار فرشتوں کے ہمراہ اس کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں، اور اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اور اگر وہ شخص تدفین مکمل ہونے تک وہاں رکا رہا اور اس نے میت پر مٹی بھی ڈالی، تو وہ واپس لوٹتے ہوئے اپنے گھر پہنچنے تک ہر قدم کے بدلے ایک قیراط اجر کا مستحق ہوگا، اور ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے، اور جس نے کسی مسلمان کے لیے قبر کھودی، اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کی آگ حرام فرما دے گا اور اسے جنت میں ایسے گھر میں جگہ عطا فرمائے گا کہ اگر اس میں صنعاء اور حبشہ کے درمیانی علاقے جتنی وسعتیں رکھ دی جائیں تو وہ ان سب کے لیے کافی ہو جائے۔“
یہ حدیث موضوع (من گھڑت) ہے۔